بارہا توجہ دہانی کے باوجود خاموشی، درخواست گذاروں میں بے چینی
حیدرآباد۔یکم۔مئی۔(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے آسرا وظائف کی اجرائی کے سلسلہ میں وصول کی جانے والی درخواستوں کی یکسوئی کے متعلق متعدد مرتبہ متوجہ کروائے جانے کے باوجود کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جس کے سبب عوام میں حکومت کے تئیں بے اعتمادی میں اضافہ ہونے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت تلنگانہ محض اعلان کرتی ہے اور عمل درآمد کے معاملہ میں غیر سنجیدہ ہے۔ حکومت کی جانب سے وظیفہ پیرانہ سالی کی حد عمر میں تخفیف کا فیصلہ کرنے کے بعد وصول کی گئی درخواستیں اب تک بھی زیر التواء ہیں اور پرانے شہر کے بیشتر منڈلوں میں اس فیصلہ سے قبل وصول کی گئی درخواستیں بھی زیر التواء ہیں اور اس سلسلہ میں سوال کرنے پر محکمہ مال کا کوئی عہدیدار جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہے اور واضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں اس بات کا علم تک نہیں ہے کہ ان کے دفاتر میں کوئی درخواست زیر التواء ہے یا ان درخواستوں کی یکسوئی ان کی اپنی ذمہ داری ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے وصول کی جانے والی آن لائن درخواستوں کی تنقیح اور توثیق کی ذمہ داری منڈل سطح پر تحصلیدار کی ہے اور جب تحصیلدار کی جانب سے درخواست گذار کی حیات ‘ عمر اور پتہ کے علاوہ دیگر اندراجات کی توثیق کی جاتی ہے تو اس کے بعد ہی ان درخواستو ںکو منظور یا مسترد کیا جاسکتا ہے ۔ محکمہ مال کے اعلیٰ عہدیداروں سے دریافت کرنے پر کہا جا رہاہے کہ حکومت کی جانب سے درخواستوں کے ادخال کی سہولت کی فراہمی کے سبب ہر شخص درخواست داخل کررہا ہے لیکن محکمہ مال کے عہدیداروں کی جانب سے درخواستوں کی تنقیح کے بعد ان کی منظوری کے سلسلہ میں احکامات جاری کئے جا رہے ہیں لیکن جن لوگوں کی درخواستوں کو مسترد کیا جاچکا ہے انہیں مطلع کرنے کا کوئی میکانزم نہ ہونے کے سبب وہ یہ تصور کرر ہے ہیں کہ ان کی درخواستیں زیر التواء ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ اگر ان درخواستوں کو مسترد نہ کیا گیا ہوتا تو جن عہدیداروں نے برسوں گذرنے کے باوجود ان درخواستوں کے متعلق فیصلہ نہ کئے جانے پر ان کے خلاف کاروائی کرنے کے مجاز تھے اسی لئے یہ دعویٰ کیا جا رہاہے کہ جو درخواستیں وصول کئے گئے ہیں اور جن لوگوں کو محنت کی ضرورت ہے ان کی تعلیم کے انتظام کو یقینی بناتے ہوئے مکمل خاندان کی پرورش کے لئے تعلیم یافتہ نوجوان پر عائد ہونے لگتی ہے۔م