یانگوین : میانمارکی ایک عدالت نے ملک کی معزول لیڈر آنگ سان سوچی کو الیکشن فراڈ میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دے کر تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔اس فیصلے کے بعد ان کی جیل کی 17سال کی اس سزا میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جو وہ پہلے ہی دوسرے جرائم کی وجہ سے کاٹ رہی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ تازہ ترین فیصلہ حکومت کی جانب سے سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی پارٹی کو انتخابات سے قبل تحلیل کرنے کی کھلم کھلا دھمکیوں کو بھی تقویت دے کر اس کی بقا کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے اور اس کے لیے ممکنہ طور پر اہم سیاسی مضمرات کا بھی حامل ہے۔فوج نے ان انتخابات کو 2023 میں منعقد کرانے کا وعدہ کیا ہے۔سوچی کی پارٹی نے 2020 کا انتخاب بھاری اکثریت سے جیتا تھا۔