قدم قدم پہ نئے حادثے ہیں راہوں میں
سفر حیات کا پھر کیسے راس آئے گا
مرکزی حکومت سماج کے ہر طبقہ کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے ۔ ہر طبقہ سے کچھ نہ کچھ وعدے کرتے ہوئے ان کے ساتھ فریب کیا جا رہا ہے ۔ انہیں سبز باغ دکھاتے ہوئے گمراہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ چاہے سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ ہو یا پھر سب کا ساتھ ‘ سب کا وکاس اورسب کا وشواس کی بات ہو ‘ سبھی کچھ دھوکہ ہی ثابت ہوا ہے ۔ سالانہ دو کروڑ روزگار نوجوانوں کو فراہم کرنے کا وعدہ تھا جسے فراموش کردیا گیا ۔ روزگار فراہم کرنے کی بجائے نوجوانوں کو پکوڑے تلنے اور پان کی دوکان لگانے کے مشورے دئے گئے ۔ گندی نالی سے گیس پیدا کرنے کی باتیں کی گئیں ۔ اسی طرح بیرونی ممالک سے کالا دھن واپس لانے کا وعدہ کیا گیا آج تک کوئی کالا دھن وطن واپس نہیں آیا بلکہ ملک سے باہر ہزاروں کروڑ روپئے چلے گئے جو بی جے پی سے قربت رکھنے والے کارپوریٹس نے بطور قرض حاصل کئے تھے ۔ یہ بھی دعوے کئے جا رہے ہیں کہ قرض کی رقومات ہڑپ کر ملک سے باہر جانے والوں کو محفوظ راہداری بھی فراہم کی گئی ۔ اسی طرح ہر شہری کے بینک کھاتے میں پندرہ لاکھ روپئے جمع کروانے کا وعدہ کیا گیا تھا بعد میں اسے جملہ قرار دیتے ہوئے اس سے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی گئی ۔ عوام سے مہنگائی کم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا الٹا مہنگائی دو گنا بلکہ تین گناہ تک بڑھ گئی ۔ 70 روپئے فی کیلو دال کی قیمت 200روپئے تک پہونچ گئی ۔ اب جبکہ آئندہ پارلیمانی انتخابات کا وقت دھیرے دھیرے قریب آتا جا رہا ہے مودی حکومت ایک بار پھر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ملک بھر میں محض دس لاکھ تقررات کا اعلان کیا گیا ہے اور وہ بھی آئندہ دیڑھ سال میں تقررات کا نشانہ ہے ۔ جس وقت تک تقررات ہونگے اس وقت تک انتخابات کا شیڈول آ جائیگا اور حکومت مختلف بہانے کرتے ہوئے اس سے انحراف کرلے گی ۔ اسی طرح فوج میں بھرتیوں کیلئے اگنی پتھ اسکیم کا اعلان کیا گیا ۔ یہ اسکیم در اصل نوجوانوں کے ساتھ اور ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔ ایک طرح سے انہیں عارضی روزگار کا جھانسہ ہی دیا جا رہا ہے ۔
پہلے تو سارے ملک میں بیروزگاری عروج پر ہے ۔ کئی دہوں میں سب سے زیادہ شرح بیروزگاری درج ہو رہی ہے ۔ گذشتہ ڈھائی تا تین سال میں لاکھوں افراد روزگار سے محروم ہو گئے ہیں۔ ایسے میں مرکز کی جانب سے محض دس لاکھ تقررات ایک مذاق سے کم نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ فوج میں چند ہزار تقررات کا اعلان کیا گیا تاہم یہ بھی کنٹراکٹ بنیاد پر ہوگا اور چار سال کی مدت کیلئے ہوگا ۔ جو نوجوان سرحدات کی حفاظت کا ذمہ سنبھالنے کئی برسوں سے جدوجہد کر رہے ہیں یہ ان کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے ۔ اس کے علاوہ ان کو ایک طرح سے روزگار کا عارضی جھانسہ ہی دیا جا رہا ہے ۔چار برس کے بعد یہ نوجوان پھر کہاں ملازمت تلاش کرنے جائیں گے ؟ ۔ کون سے ادارے میں ان کا تقرر ہوگا ۔ وہ کس شعبہ میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ ان کی زندگیاں کس رخ پر چلی جائیں گی اس بات کا حکومت نے کوئی اندازہ نہیں کیا ہے ۔ جو نوجوان چار سال تک ملک اور سرحدات کی حفاظت انجام دیں گے کیا انہیں بھی پکوڑے تلنے کا مشورہ دیا جائیگا ؟ ۔ یا یہ جوان پان کی دوکان لگائیں گے ؟ کیا انہیں گوبر سے گیس پیدا کرنے کی تربیت دی جائے گی ؟ ۔ جو جھانسہ نوجوانوں کو دینے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ قابل مذمت ہے کیونکہ حکومت کو نوجوانوں کو مستقبل سنوارنے کا موقع دیا جانا چاہئے نہ کہ ان کے مستقبل سے کھلواڑ کیا جانا چاہئے ۔ حکومت ہر معاملے میں دھوکہ کرنے کی عادی ہوچکی ہے اور نوجوانوں کو بھی بخشا نہیں جا رہا ہے ۔
حکومت کو اس طرح سماج کے اہم طبقات کے ساتھ کھلواڑ کرنے اور نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگانے والے من مانی فیصلوں سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک کی مسلح افواج کے حوصلے بھی پست نہیں ہونے چاہئیں۔ جو جوان چند برس کیلئے فوج میں خدمات انجام دیں گے ان کی برخواستگی کے بعد مسلح افواج کے حوصلے پست ہوسکتے ہیں۔ اس پہلو پر بھی حکومت کو غور کرنے کی ضرورت ہے اور مستقبل بنیادوں پر تقررات عمل میں لائے جانے چاہئیں۔ کئی جوانوں نے اس کیلئے برسوں سے تیاری کی ہے اور انہیں مایوس نہیں کیا جانا چاہئے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی شدید ضرورت ہے ۔