دہلی کے جنتر منتر پر حکومت کے خلاف مظاہرہ، ارکان پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی اور وینکٹ ریڈی بھی شریک رہے
حیدرآباد۔20۔ جون (سیاست نیوز) کانگریس قائد راہول گاندھی کو انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی نوٹس اور مسلسل چار دن تک دفتر طلب کرنے کے خلاف کانگریس پارٹی نے دہلی میں جنتر منتر پر دھرنا منظم کیا۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی ، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا ، ارکان پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی ، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ، این ایس یو آئی کے صدر بی وینکٹ ، میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل اور تلنگانہ کے دیگر قائدین نے دھرنے میں حصہ لیتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔ اے آئی سی سی کے دیگر قائدین نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔ اس موقع پر ریونت ریڈی نے کہا کہ مودی حکومت اڈانی اور امبانی کو ملک کے وسائل فروخت کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں فوج کو بھی خانگیانے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔ اگنی پتھ اسکیم دراصل فوج کو کنٹراکٹ کی بنیاد پر چلانے کی تیاری ہے۔ چار برسوں تک خدمات انجام دینے کے بعد فوجی جوانوں کی سبکدوشی کا فیصلہ ملک کی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگنی پتھ اسکیم کی برخواستگی تک کانگریس پارٹی کا احتجاج جاری رہے گا ۔ آئندہ پارلیمنٹ سیشن میں کانگریس پارٹی اگنی پتھ اسکیم کے خلاف جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی انتقامی کارروائیوں کے تحت راہول گاندھی کو انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدمات سے کانگریس قائدین خوفزدہ نہیں ہوں گے ۔ گاندھی خاندان نے ملک کیلئے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ راہول گاندھی اور سونیا گاندھی کو نوٹس کی اجرائی کا مقصد حوصلوں کو پست کرنا ہے تاکہ حکومت کے خلاف احتجاج نہ ہو۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی عوامی مسائل پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ریاستوں کی طرح تلنگانہ میں بھی ای ڈی کے خلاف اور اگنی پتھ اسکیم سے دستبرداری کیلئے احتجاج کیا جارہا ہے۔ رکن پارلیمنٹ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ملک کی سلامتی کے تحفظ سے مودی حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اتم کمار ریڈی جو انڈین ایرفورس میں پائلٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں، کہا کہ فوج میں تقررات کو کنٹراکٹ کی بنیاد پر بنانا افسوسناک ہے۔ر