’ اگنی پتھ ‘ تلنگانہ بھی آگ کی لپیٹ میں۔ سکندرآباد اسٹیشن پر آگ زنی ‘ فائرنگ ‘ نوجوان ہلاک

,

   

برہم احتجاجی نوجوانوں کے غم و غصہ کا شدید اظہار ۔ تین ٹرینیں نذر آتش ۔ کئی بوگیاں خاکستر۔ کارگو سامان بھی نذر آتش کردیا گیا ۔ 13 نوجوان زخمی

حیدرآباد : /17 جون (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی اگنی پتھ اسکیم کی آگ نے تلنگانہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور تازہ تشدد میں سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں سینکڑوں نوجوان گھس پڑے اور ٹرینوںکو نذرآتش کیا جس کے نتیجہ میں پولیس فائرنگ میں ایک ہلاک اور 13 نوجوان زخمی ہوگئے ۔احتجاجی نوجوانوں کی جانب سے پرتشدد واقعات میں ملوث ہونے اور ٹرین و پلیٹ فارمس کو نشانہ بنانے پر وہاں پر موجود ریلوے پاسنجرس بشمول خواتین اور کمسن بچے خوف زدہ ہوگئے ۔ پولیس نے انہیں ریلوے اسٹیشن سے باہر نکال دیا ۔ تفصیلات کے مطابق سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر آج صبح 500 سے زائد نوجوانوں کا ایک گروپ اسٹیشن کے اندر داخل ہوکر پلیٹ فارم پر کھڑی ہوئی ٹرینوں پر اچانک حملہ کرتے ہوئے وہاں نعرے بازی شروع کردی اور کچھ ہی دیر میں نوجوانوں کا ایک بڑا ہجوم بھی اس احتجاج میں شامل ہوگیا ۔ ریلوے پروٹیکشن فورس جو اس احتجاج سے لاعلم تھی حیرت کا شکار ہوگئی اور احتجاجیوں کے خلاف کارروائی کرنے سے قبل ہی نوجوانوں نے 3 ٹرینوں کو نذرآتش کردیا جس کے نتیجہ میں 5 انجن اور 30 بوگیوں کو شدید نقصان پہنچا ۔جلتی ہوئی ٹرین کی بوگیوں کی آگ بجھانے کیلئے ریلوے عملہ کے علاوہ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ڈی آر ایف) کا بھی استعمال کیا گیا ۔ احتجاجی نوجوانوں نے مرکزی حکومت کی اگنی پتھ اسکیم کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ایک کے بعد ایک پلیٹ فارم پر کھڑی ہوئی ٹرینیں پاریمل ایکسپریس ، اجنتا ایکسپریس کو نذر آتش کردیا ۔ برہم احتجاجی سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کے پارسل سیکشن میں بھی داخل ہوگئے اور وہاں پر موجود 40 موٹر سائیکلوں کو پٹریوں پر لاکر انہیں نذرآتش کردیا ۔ حالات انتہائی کشیدہ ہونے کے نتیجہ میں ریلوے پروٹیکشن فورس کے علاوہ تلنگانہ پولیس کے دستوں کو بھی طلب کرلیا گیا تھا چونکہ احتجاجی نوجوان پولیس پر شدید سنگباری شروع کرکے مزید ٹرینوں کو نقصان پہنچانے آگے بڑھ رہے تھے کہ ریلوے پولیس نے ان پر فائرنگ کردی ۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کیلئے 15 راؤنڈ فائرنگ کی ہے جس میں ورنگل سے تعلق رکھنے والا نوجوان 18 سالہ دامودھر راکیش برسر موقع ہلاک ہوگیا ۔ جبکہ 14 نوجوان جگناتھ رنگاسوامی ، کے راکیش ، جے سریکانت ، اے کمار ، جی پرسورام ، پی موہن ، ناگیندر بابو ، لکم ونئے ، ای ویدیا ساگر ، ایس لکشمن ریڈی ، ڈی مہیش ، بھرت کمار اور چندرو زخمی ہوگئے ۔ حالات کو مزید بگڑتا دیکھ کر تلنگانہ اسپیشل فورس ریاپڈ ایکشن فور س کے علاوہ کمشنر ٹاسک فورس کو بھی سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں تعینات کردیا گیا ۔ پولیس فائرنگ میں ایک نوجوان کی موت واقع ہونے کے بعد احتجاجی مزید برہم ہوگئے اور اپنے احتجاج میں شدت پیدا کرتے ہوئے پولیس سے یہ سوال کیا کہ کیوں ان پر گولیاں برسائی جارہی ہیں کیا وہ دہشت گرد ہیں ۔ ریلوے اسٹیشن پر اچانک پھٹ پڑے تشدد کے نتیجہ میں تقریباً 200 ٹرینوں کو منسوخ کرتے ہوئے ساؤتھ سنٹرل ریلوے نے اعلان کیا جبکہ احتیاطی طور پر حیدرآباد میٹرو ریل بھی منسوخ کردی گئی ۔ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر پیش آئے پرتشدد واقعات کے پیش نظر نامپلی ، کاچی گوڑہ کے علاوہ دیگر ریلوے اسٹیشن پر بھی بھاری پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا تھا ۔ احتجاج کرنے والے نوجوان پولیس کی فائرنگ کے باوجود بھی احتجاج پر ڈٹے رہے اور پٹریوں پر بیٹھ کر احتجاج شروع کردیا ۔ پولیس جو پہلے سے ہی پس و پیش کا شکار ہوگئی تھی سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کا مکمل طور پر محاصرہ کرلیا ۔ احتجاجی طلباء مرکزی حکومت سے اگنی پتھ اسکیم کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا جس پر پولیس نے یہاں کے فوجی عہدیداروں سے مذاکرات کیلئے طلب کیا جس کے نتیجہ میں 10 احتجاجی نوجوان بات چیت کیلئے تیار ہوگئے تھے ۔ ریلوے پٹریوں پر شام تک احتجاج منظم کرنے کے نتیجہ میں پولیس نے ریاپڈ ایکشن فورس اور ٹاسک فورس کی مدد سے احتجاجی نوجوانوں پر آنسو گیس شیل برساتے ہوئے ان پر زبردست لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجہ میں ہجوم وہاں سے منتشر ہوگیا ۔ کئی احتجاجی نوجوانوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ۔ب