ایران جنگ کے باعث پنٹگان کا گولہ بارود کی ’کمی‘ کا اعتراف

   

واشنگٹن ۔ 15 ستمبر (ایجنسیز) امریکی محکمہ دفاع (پنٹگان) نے پیر کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں اعتراف کیا ہیکہ ایران جنگ کے باعث امریکی گولہ بارود کے ذخائر میں ’کمی‘ پیدا ہوئی ہے۔ گزشتہ کئی ماہ کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ بڑی حد تک اس بات کی تصدیق سے گریز کرتی رہی تھی۔پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی ایران کے خلاف امریکی کارروائی سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ ’’آپریشن رزمیہ غضبِ ‘‘ کے دوران گولہ بارود کے استعمال سے اسٹریٹجک ذخائر میں کمی واقع ہوئی اور دفاعی صنعت کو درپیش رکاوٹیں سامنے آئیں، جو گولہ بارود کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔تاہم رپورٹ میں ان اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو محکمہ دفاع نے گولہ بارود کی پیداوار کی رفتار تیز کرنے کیلئے کیے ہیں۔جون میں جب میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اپنے میزائلوں، خصوصاً دفاعی انٹرسیپٹر میزائلوں کے استعمال پر پابندیاں عائد کر رہا ہے ،تو امریکی حکومت نے اس کی تردید کی تھی۔صدر ٹرمپ نے بھی کہا تھا کہ امریکہ کے پاس ’’بہت بڑی مقدار میں گولہ بارود‘‘ موجود ہے۔ستمبر کے آغاز میں بھی امریکی صدر کا اصرار تھا کہ امریکہ کے پاس ’’لامحدود مقدار میں گولہ بارود‘‘ موجود ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گولہ بارود کی اس کمی کے باعث ٹرمپ نے موسم گرما کے دوران تہران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پینٹاگون کی رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ دفاعی انٹرسیپٹر میزائلوں کے بڑے پیمانے پر استعمال کے باوجود ایرانی حملوں سے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق اور عمان اور اردن میں موجود امریکی اڈوں پر سینکڑوں عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہوگئیں۔
اپریل سے جون 2026 تک کے عرصے کا احاطہ کرنے والی دستاویز میں امریکی فضائی بیڑے کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں 4 ایف-15 طیاروں کی تباہی، ایک ایف-35 طیارے کو نقصان، کے سی-135 طیاروں میں سے 7 ٹینکر طیاروں کا نقصان یا تباہی اور ’’30 تک‘‘ ایم کیو-9 ریپر ڈرونز کی تباہی شامل ہے۔دستاویز کے مطابق 28 فروری کو اسرائیلی اور امریکی حملوں سے شروع ہونے والی خلیجی جنگ میں 50 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی اہلکار شریک ہوئے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہیکہ ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے کیے گئے جوابی حملوں سے چار ممالک، عراق، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں واقع امریکی سفارتی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔