تہران : حکومت ایران کے مخالفین بشمول ایک مغربی ماہر تعلیم نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے خلاف نیویارک میں ایک دیوانی مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا۔ رئیسی ان دنوں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے وہاں موجود ہیں۔ ایران میں قومی یونین برائے جمہوریت (این یو ایف ڈی آئی) نامی ایک ایڈوکیسی گروپ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سخت گیر صدرابراہیم رئیسی کے خلاف شکایت اس لیے درج کرائی گئی ہے کہ انہوں نے 1980 کی دہائی میں جج کی حیثیت سے ملک میں ہزاروں افراد کو موت کی سزا سنائی تھی۔مینہٹن میں واقع امریکی وفاقی عدالت نے تاہم منگل کی شام تک اس مقدمے کا باضابطہ عوامی طور پر اعلان نہیں کیا تھا۔صدر ابراہیم رئیسی کے خلاف مقدمہ دائر کیے جانے کے حوالے سے اطلاع دینے کے لیے نیویارک میں منعقدہ پریس کانفرنس میں آسٹریلوی نژاد برطانوی ماہرتعلیم کائلی مور گلبرٹ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ شرکت کی۔ کائلی کو جاسوسی کے الزام میں ستمبر 2018 سے نومبر 2020 تک قید میں رکھا گیا تھا، جس میں ایک سال قید تنہائی بھی شامل ہے۔ انہوں نے ایران جیل میں قید کے دوران سلاخوں کے پیچھے اپنی ایک تصویر بھی دکھائی۔کائلی کا کہنا تھا،”مجھے مختلف قسم کے نفسیاتی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور باقاعدگی سے ظالمانہ اور ذلت آمیز بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا۔