ایران مظاہرے ‘ بیرونی مداخلت

   

Ferty9 Clinic

قناعت نہ کر عالمِ رنگ و بو پر
کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں
تقریبا پندرہ برس قبل مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جسے عرب اسپرنگ کا نام دیا گیا تھا ۔ اس احتجاج نے ‘ جو محض ایک لڑکی نے شروع کیا تھا ‘ بعد میں ایک عوامی احتجاج کی شکل اختیار کرلی تھی اور پھر مصر کے صدر حسنی مبارک کو استعفی پیش کرنا پڑا تھا ۔ اس کے بعد بتدریج کئی ممالک میں عوامی احتجاج کی لہر شروع ہوئی ۔ کئی حکومتیں تبدیل ہوگئیں اور کئی ممالک کا اقتدار تبدیل ہوگیا ۔ اسی طرح اب ایران میں بھی عوامی احتجاج کو ہوا دی جانے لگی ہے ۔ ایران میںچند دن قبل عوام کی جانب سے مہنگائی کیخلاف احتجاج شروع ہوا تھا ۔ حکومت سے ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا تھا ۔ ابتداء میں اسے معمولی احتجاج کا نام دیا جا رہا تھا تاہم شبہات کے مطابق بیرونی عناصر کی جانب سے اس احتجاج کو ہوا دی جانے لگی ہے اور اس احتجاج نے اب شدت اختیار کرلی ہے اور اسے دوسرے شہروں تک وسعت بھی دیدی گئی ہے ۔ ایران کے دارالحکومت تہران سے شروع ہونے والا یہ احتجاج اب ملک کے دوسرے شہروں تک پھیل گیاا ہے ۔ ایران نے ابتداء ہی سے یہ واضح کردیا تھا کہ یہ بیرونی عناصر کی شہہ پر کیا جانے والا احتجاج ہے اور اب اس کی توثیق اور تصدیق بھی ہوگئی ہے ۔ ایران کے جلا وطن شہنشاہ رضاء پہلوی کی جانب سے عوام سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ سڑکوں پر اتر جائیں اور شہروں میں سٹی سنٹرس کو اپنے قبضہ میں لینے کی تیاری کریں۔ رضاء پہلوی نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے بھی اپیل کی کہ وہ ایران میں فوری مداخلت کریںاور اقتدار کی تبدیلی کو یقینی بنائیں۔ رضاء پہلوی کے بیانات سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ بیرونی عناصر ہیں جو ایران میں حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں ۔ اسلامی نظام کو ختم کرتے ہوئے وہاں کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی تکمیل ممکن ہوسکے ۔ ایران کے روحانی رہنماء آیت اللہ علی خامنہ ای کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور انہیں امریکی و اسرائیلی مفادات کی تکمیل میں اصل رکاوٹ سمجھتے ہوئے ان کو بیدخل کرنے کے منصوبوں کے تحت کام کیا جا رہا ہے ۔ بیرونی طاقتیں ایران میں عدم استحکام کی صورتحال پیدا کرتے ہوئے اپنے مفادات کی تکمیل چاہتی ہیں۔
یہ درست ہے کہ ایران میں مہنگائی اپنے عروج پر پہونچ چکی ہے اور حکومت سے عوام میں کچھ ناراضگی بھی پائی جاتی ہے ۔ تاہم جہاں تک مہنگائی کا سوال ہے تو اس کیلئے بھی راست طور پر امریکہ ہی ذمہ دار ہے ۔ ایران کے خلاف طویل عرصہ سے معاشی تحدیدات عائدکی گئی ہیں۔ اس کی تجارت کو روکا جا رہا ہے ۔ تیل کی فروخت میں رکاوٹ پیدا کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ایران کی معیشت کو تہس نہس کرنے کے منصوبوں سے یہ تحدیدات عائد کی گئی تھیں اور اب اس کے اثرات عوام پر مرتب ہونے لتگے ہیں۔ اسی صورتحال کا استحصال کرتے ہوئے عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکانے اور مشتعل کرنے کے درپردہ اقدامات کئے گئے اور عوام کو سڑکوں پر لانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ایران کے جو داخلی حالات ہیں ان کو بہتر بنایا جانا چاہئے اوریہ کام ایران کی حکومت کا ہے ۔ ایران کے عوام نے ہی اپنے ووٹ سے جنہیں ذمہ داری دی ہے وہی لوگ یہ کام کریں گے تاہم بیرونی طاقتوں کو ایران کے حالات میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی انہیں صورتحال کا استحصال کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ دنیا کے تقریبا ہر ملک میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو حکومتوں سے خوش نہیں ہوتے تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوسکتاکہ اقتدار کا تختہ ہی الٹ دیا جائے ۔ ایران میں بھی اگر عوامی ناراضگی ہے تو اسے دور کرنے کیلئے وہاں کی حکومت ہی اپنے طورپر اقدامات کرے گی اورایرانی عوام کو بیرونی طاقتوں کو راستہ فراہم کرنے جیسے کام نہیں کرنے چائیں کیونکہ یہ طاقتیں عوام کی بھلائی کی بجائے اپنے ایجنڈہ کی تکمیل چاہتی ہیں۔
عوامی رائے کو ایک مخصوص انداز میں پیش کرتے ہوئے یہ طاقتیں اس کا استحصال کریں گی ۔ کٹھ پتلی حکومتوں کا قیام عوام کے مفادات میں ہرگز نہیں ہوسکتا اور نہ ہی احتجاج کے دوران تشدد ملک کے مفاد میں ہوسکتا ہے ۔ اگر واقعی کچھ مسائل ہیں تو انہیں داخلی طور پر بہتر بنانے کیلئے ضرور کام کیا جاسکتا ہے لیکن بیرونی طاقتوں کو مسلط کرنے کی غلطی نہیں کی جاسکتی ۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکہ اور اس کے حواری اسرائیل کی نیت ایران کے تعلق سے اچھی ہرگز نہیں ہے ۔ ایک سے زائد مرتبہ اس کا ثبوت مل چکا ہے ۔ ایسے میں جو عناصر بیرونی طاقتوں کے آلہ کار بن کر کام کر رہے ہیں وہ ایران کے دوست نہیں ہوسکتے بلکہ وہ مخالفین کے بہی خواہ ہیں۔ ایران کے عوام کو یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اپنے احتجاج سے ایران کے مخالفین کو مسلط کرنے کی اجازت اور موقع ہرگز نہیں دیا جانا چاہئے ۔
تلگو ریاستوں کے آبی مسائل
دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مابین آبی تنازعات شدت اختیار کرنے لگے ہیں اور ان تنازعات کو حل کرنے کی بجائے ان پر سیاست زیادہ گرم ہونے لگی ہے۔ جس وقت ریاست متحد تھی اس وقت بھی یہ الزامات عائد کئے جاتے رہے کہ تلنگانہ کو دریاوں کے پانی میں اس کے واجبی حق سے محروم کیا جاتا ہے اور تلنگانہ کا پانی آندھرائی علاقہ میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ اب ریاست کی تقسیم اور علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد یہ مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے گذشتہ تقریبا ایک دہے میں بھی کوئی خاص اقدامات نہیں کئے گئے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان مسائل پر اب سیاست بھی گرم ہونے لگی ہے ۔ تلنگانہ کی سیاست میں خاص طور پر آبی مسائل کا تذکرہ ہونے لگا ہے اور موجودہ و سابق برسر اقتدار جماعت ایک دوسرے کے خلاف الزامات و جوابی الزامات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اہم ترین مسئلہ پر سیاست کرنے کی بجائے ان کی یکسوئی پر زیادہ توجہ دی جائے اور ہر ریاست کو دریاوں کے پانی میں اس کا واجبی حصہ حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے ۔خاص طور پر تلگو ریاستوں میں ٹکراؤ کی کیفیت پیدا نہیں ہونی چاہئے اور دونوں ہی ریاستوںکی حکومتوںکو ایک دوسرے کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہئے ۔