ایران میں 5 روز میں 2 ہزار اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا

   

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کا نطنز ایٹمی پلانٹ بھی متاثر

تہران،4 مارچ (یو این آئی) امریکہ اور اسرائیل کے پانچویں روز بھی ایران پر حملے جاری ہیں، رات بھر تہران دھماکوں سے گونجتا رہا۔ امریکی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں 5 روز میں 2 ہزار اہداف کو ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔ عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایرانی میزائل لانچروں، ایک جوہری تحقیقی مرکز پر فضائی حملے کیے ۔ امریکی فورسز کے مطابق ایران میں 5 روز میں 2 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ایک آبدوز سمیت 17 ایرانی بحری جہازوں کو تباہ کر دیا ہیں۔ دوسری جانب امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے نطنز ایٹمی پلانٹ کو بھی نقصان پہنچا تاہم تابکاری کے اخراج کا امکان نہیں۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے نطنز جوہری افزودگی مرکز کو حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران جزوی نقصان پہنچا ہے ، تاہم کسی قسم کی تابکاری کے اخراج کا خطرہ نہیں ہے ۔ ادارے کا کہنا تھا کہ تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویرکی بنیاد پرپلانٹ کی داخلی عمارتوں کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی جاسکتی ہے جبکہ مرکزی زیرِ زمین تنصیبات محفوظ ہیں۔ آئی اے ای اے کا نے کہا کہ ایجنسی نے واضح کیا ہے کہ حملوں کے باوجود فی الوقت کسی قسم کی تابکاری (Radiation) کے اخراج کے شواہد نہیں ملے اور نہ ہی ایٹمی مواد کے ماحول میں پھیلنے کا خطرہ ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جوہری پلانٹ کے اندرونی حصے پر کوئی نیا اثر نہیں پڑا، صورتحال قابو میں ہے اور نگرانی جاری ہے ۔ یہ جوہری مرکز ایران کے شہر قم کے قریب واقع ہے اور ملک کے اہم یورینیم افزودگی مراکز میں شمار ہوتا ہے ۔ رپورٹس کے مطابق یہ حملے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جاری فوجی کارروائیوں کا حصہ ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہیں۔ ایرانی ہلالِ احمر کے مطابق ان حملوں میں ملک بھر میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ خطے میں جوابی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ دوسری جانب ایران کے نمائندے نے دعویٰ کیا ہے کہ جوہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا اور ان الزامات کو مسترد کیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ ماہرین کے مطابق، نطنز پہلے بھی گزشتہ جنگ میں شدید متاثر ہو چکا تھا، اور حالیہ حملوں کا اثر زیادہ تر اس کے داخلی ڈھانچے تک محدود دکھائی دیتا ہے ۔