تہران : ایران میں طالبہ کو زہر دیے جانے کے واقعہ کی گونج میں پیر کو ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ کرد انسانی حقوق کی تنظیم ’’ ھینگاو‘‘ نے اپنے ٹوئٹر پر اعلان کیا ہے کہ ملک میں شمال مغرب میں موجود شہر ’’ بانہ‘‘ میں گرلز سیکنڈری اسکول پر زہریلی گیسوں سے حملہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا زہریلی گیسوں سے سانس لینے میں دشوار ی ہو رہی ہے۔ حالت خراب ہونے پر کچھ طالبات کو ہاسپٹل لے جایا گیا ۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسکول کے اندر سے ایسے مناظر شیئر کیے ہیں جن میں کچھ خاندانوں کو جمع ہوتے دکھایا گیا۔ ایک ایمبولینس زخمیوں کو لے جانے کیلئے راکی ہوئی بھی دکھائی دی۔ملک کے کئی علاقوں میں زہر دینے کے مشتبہ واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ خاص طور پر اسکول طالبات کو نشانہ بنایا گیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار حکام کو ٹھہرایا ہے۔ زہر کے حملو ں کا آغاز ’’ قْم‘‘ سے اس وقت ہوا جب وہاں زہریلی گیس کے درمیان سانس لینے میں شدید رکاوٹ اور آنتوں میں درد کے باعث طالبات بے ہوش ہوگئی تھیں۔ اسی طرح اب سینکڑوں اسکولوں میں اسی طرح کے کیسز سامنے آگئے۔ چند روز قبل حکام نے زہر دینے کے معاملے میں متعدد گورنریٹس میں 100 سے زائد مشتبہ افراد کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔