تہران : ایران میں جاری عوامی مظاہروں کے ذریعہ شہری آزادیوں کی جدوجہد کو 7 ماہ ہو چکے ہیں، جس میں آج بھی عوامی گروپ حصہ لیتے ہیں۔ ان احتجاجی مظاہروں میں ایرانی کھلاڑیوں کا کردار حساس موضوع ہے۔ حکمران سیاسی اور مذہبی قیادت کیخلاف عوامی احتجاج میں اب تک ایسے کئی معروف ملکی کھلاڑی شامل ہو چکے ہیں جنہوں نے ایسا کرکے اپنی زندگی کے ساتھ کھیلوں کے شعبے میں اپنا کیریئر بھی خطرے میں ڈال دیا۔
لیکن یہ بنیادی سوال ابھی تک اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر بات ایران میں سیاسی اور سماجی آزادیوں کی ہو تو کھیلوں کے ملکی شعبے اور کھلاڑیوں کو کیا کرنا چاہیے اور وہ کس کا ساتھ دیں؟