دمشق : اگرچہ ایرانی ذمے داران گذشتہ دنوں کے دوران میں یہ باور کرا چکے ہیں کہ وہ شام میں مسلح گروپوں کی پیش قدمی کے سامنے شامی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں تاہم با خبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے شام سے اپنی سینئر عسکری قیادت کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔ ایرانی اور علاقائی ذمہ داران نے انکشاف کیا ہے کہ تہران نے القدس فورس (پاسداران انقلاب کی بیرون شاخ) کی سینئر قیادت کے علاوہ پاسداران انقلاب کے بعض عناصر، ایرانی سفارت خانے کے بعض ملازمین اور ان کے اہل خانہ اور ایرانی شہریوں کو شام سے نکال لیا ہے۔ یہ بات امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے آج ہفتہ کے روز بتائی۔ ذمہ داران کے مطابق اس انخلا کا حکم دمشق میں ایرانی سفارت خانے نے جاری کیا۔ اس کے بعد ایرانیوں نے جمعے کو صبح سویرے شامی اراضی سے کوچ شروع کر دیا۔ یہ کوچ طیاروں کے ذریعہ تہران یا عراق اور لبنان کے زمینی راستے عمل میں آ رہا ہے۔اسی دوران میں امریکی ذمہ داران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دمشق کو جلد ہی خطرہ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینئر ذمہ دار کے مطابق شامی صدر بشار الاسد کو ڈٹے رہنے کیلئے زمینی افواج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
تاہم ایسا لگتا ہے کہ اس کا اتحادی ایران اس معاملہ میں مدد پیش کرنے سے ہچکچا رہا ہے۔ اسی طرح ذمہ داران نے شامی فوج کے کمزور کنٹرول کے مقابل بالخصوص حلب میں مسلح گروپوں کی تیز پیش قدمی کو حیران کن قرار دیا