امریکہ اپنا نقصان بتانا نہیں چاہتا جبکہ نقصان کا تخمینہ 2 ارب ڈالرس لگایا گیا ہے
واشنگٹن، 4 مارچ (یو این آئی) ایران کی جانب سے حملوں میں امریکہ کو اب تک تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کے فوجی ساز و سامان کا نقصان اُٹھانا پڑا ہے ۔ ترک میڈیا ایجنسی کی جانب سے جمع کیے گئے اعداد و شمار اور تخمینوں کے مطابق ہفتے کے روز سے ایران کے خلاف شروع ہونے والے حملوں میں امریکا کو اب تک تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کے فوجی ساز و سامان کا نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔ مالی نقصان کی سب سے بڑی وجہ قطر کے العدید ایئر بیس پر نصب امریکی ‘AN/FPS-132’ ارلی وارننگ رڈار سسٹم ہے ، جس کی مالیت 1.1 ارب ڈالر ہے ۔ ہفتے کے روز ایران کے میزائل حملے میں یہ سسٹم نشانہ بنا، جس کی تصدیق قطری حکام نے بھی کی ہے ۔ اتوار کے روز کویتی فضائی دفاعی نظام کی مبینہ غلطی (فرینڈلی فائر) کے نتیجے میں 3 امریکی ایف-15 ای (F-15E) اسٹرائیک ایگل طیارے تباہ ہو گئے ۔ اگرچہ عملے کے تمام چھ ارکان محفوظ رہے ، تاہم ان طیاروں کی تبدیلی پر 282 ملین ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ ہفتے کے روز اپنے ابتدائی جوابی حملے میں ایران نے بحرین کے دارالحکومت منامہ میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے (Fifth Fleet) کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا، جس سے دو سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز اور کئی بڑی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔اوپن سورس انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ان ٹرمینلز کی مالیت تنصیب کے اخراجات سمیت تقریباً 20 ملین ڈالر ہے ۔ ایران نے متحدہ عرب امارات کے الرویس انڈسٹریل سٹی میں نصب تھاڈ (THAAD) اینٹی بیلسٹک میزائل سسٹم کے رڈار جزو ‘AN/TPY-2’ کو بھی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ سیٹلائٹ تصاویر سے اس حملے کی تصدیق ہوتی ہے اور اس یڈار کی مالیت 500 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے ۔ ان تمام نقصانات کو ملا کر اب تک خطے میں 1.902 ارب ڈالر مالیت کے امریکی فوجی اثاثے متاثر ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ہفتے کو ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد سے ایران اب تک مشرق وسطیٰ میں کم از کم سات امریکی فوجی مقامات کو نشانہ بنا چکا ہے ۔ ان میں بحرین میں پانچویں بیڑے کا ہیڈ کوارٹر، کویت میں کیمپ عارفجان، علی السالم ایئر بیس اور کیمپ بوہرنگ، عراق میں اربیل بیس، دبئی میں جبل علی پورٹ اور قطر میں العدید ایئر بیس شامل ہیں۔ کویتی فضائی اڈے ‘علی السالم’ کی تصاویر میں عمارتوں کی چھتیں گری ہوئی دکھائی دیں، جبکہ کیمپ عارفجان میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے ۔ عراق کے شہر اربیل میں امریکی افواج کے زیر استعمال حصے پر بھی متعدد حملے کیے گئے ، جس سے وہاں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ فوجی اڈوں کے علاوہ سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارتی مشنز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ریاض میں امریکی سفارت خانے پر دو ڈرون گرے ، جس سے سی آئی اے اسٹیشن کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے ۔ کویت سٹی میں امریکی سفارت خانہ ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے ۔
ایرانی ڈرون حملے :سعودیہ میں امریکی سفارتخانہ دہل گیا
ریاض، 4 مارچ (یو این آئی) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے امریکی سفارت خانے میں قائم سی آئی اے اسٹیشن پر ڈرون حملہ کیا گیا ، جس کے نتیجے میں سفارتخانے کی چھت کا ایک حصہ گر گیا اور اندر دھواں بھر گیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں قائم امریکی سفارت خانے کے کمپلیکس کو ڈرون حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے ، جہاں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا اسٹیشن آفس بھی قائم تھا۔ امریکہ اور سعودی عرب نے تصدیق کی ہے پیر کو دو ڈرونز نے ریاض میں سفارتخانے کے کمپلیکس کو نشانہ بنایا، حملے کے نتیجے میں سفارتخانے کی چھت کا ایک حصہ گرگیا اور اندر دھواں بھر گیا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی ایک وارننگ میں کہا گیا ہے سفارتخانے کو ’’ساختی نقصان‘‘پہنچا ہے ،عملے کو ہدایت دی ہے وہ جگہ پر ہی پناہ لیے رکھیں۔ دوسری جانب سفارت خانے پر حملے کے بعد امریکی مشن نے سعودی عرب میں مقیم اپنے شہریوں کے لیے ہنگامی سیکورٹی الرٹ جاری کر دیا ہے ۔ امریکی شہریوں کے لیے معمول کی اور ہنگامی تمام اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی گئی ہیں۔امریکی مشن نے ایک نئی وارننگ میں کہا ہے کہ ظہران میں بھی میزائل اور ڈرون حملوں کا شدید خطرہ ہے ، لہٰذا شہری امریکی قونصل خانے آنے سے گریز کریں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگلے حکم تک ریاض میں سفارت خانے کے علاقے سے دور رہیں۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں (آپریشن ایپک فیوری) عروج پر ہیں۔ سفارت خانے کے اندر سی آئی اے کے اسٹیشن کو نشانہ بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں امریکی انٹیلیجنس نیٹ ورک براہِ راست خطرے میں ہے ۔
پاسداران انقلاب کا امریکی فوج کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ
تہران، 4 مارچ (یو این آئی) ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی فوج کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا اب تک 680 امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جوابی کارروائی کے پہلے دو دنوں میں امریکی فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا، ان کے حملوں میں اب تک 680 امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹرز کو متعدد بار میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود امریکی اڈوں پر 160 اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ۔
ایرانی ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک امریکی جنگی معاون جہاز کو شدید نقصان پہنچا اور USS Abraham Lincoln پر چار کروز میزائل داغے گئے ، جس کے بعد وہ بحیرہ ہند کی جانب پیچھے ہٹ گیا۔ دوسری جانب، امریکی محکمہ دفاع کے مطابق پیر کی شام تک صرف 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے ، جبکہ امریکی میڈیا نے 18 اہلکاروں کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے ۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بحرین میں کسی بھی فوجی اڈے پر کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ خیال رہے فروری 2026 میں شروع ہونے والے اس آپریشن کے تحت امریکی اور اسرائیلی فضائیہ تہران سمیت درجنوں ایرانی شہروں میں فوجی تنصیبات، سیکیورٹی مراکز اور پولیس اسٹیشنز کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق شام نے لبنان کی سرحد پر ہزاروں فوجی متحرک کر دیے ہیں، جبکہ ایران کے میزائل حملوں کے بعد سعودی عرب کے بھی جنگ میں شامل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔