ایران کا امریکہ میں ورلڈ کپ مقابلوں کا بائیکاٹ

   

فیفا ٹورنمنٹ سے دستبردار نہ ہونے کا فیصلہ
تہران،19 مارچ (یو این آئی ) ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے واضح کیا ہے کہ ایران کی قومی ٹیم فیفا ورلڈکپ 2026 کی تیاری جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کا ٹورنمنٹ سے دستبردار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ، تاہم ٹیم امریکہ میں مقررہ اپنے گروپ میچوں کا بائیکاٹ کرے گی۔ ایران ان پہلی ٹیموں میں شامل ہے جنہوں نے ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی کیا، لیکن فروری کے اواخر میں امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والے تنازعہ اور موجودہ جنگ کے بعد سے ان کی شرکت پر سوالات اٹھ رہے تھے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی اہم ہے کہ فیفا ورلڈ کپ11 جون سے 19 جولائی تک امریکہ، میکسیکو اور کناڈا میں مشترکہ طور پر منعقد ہونا ہے ۔ ایران کے تمام تینوں گروپ میچز امریکہ میں مقرر ہیں، لیکن صدر مہدی تاج کے مطابق ایرانی فٹ بال فیڈریشن فیفا کے ساتھ ان میچوں کو میکسیکو منتقل کرنے کے لیے مذاکرات کررہی ہے ۔ مہدی تاج نے فارس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا قومی ٹیم ترکیہ میں تربیتی کیمپ لگائے ہوئے ہے جہاں ہم دو دوستانہ میچز بھی کھیلیں گے ۔ ہم امریکہ کا بائیکاٹ کریں گے لیکن ورلڈکپ کا بائیکاٹ نہیں کریں گے ۔ انہوں نے یہ بیان آسٹریلیا سے واپس آنے والی خواتین کی قومی ٹیم کے استقبال کے موقع پر دیا۔ واضح رہے کہ آسٹریلیا میں ویمنز ایشین کپ کے دوران ٹیم کے کچھ ارکان کو پناہ کی پیشکش کی گئی تھی، جس کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ ایرانی کھلاڑیوں کی امریکہ میں زندگی اور حفاظت کے حوالے سے خدشات ہو سکتے ہیں۔ مہدی تاج نے صدر ٹرمپ کے اسی بیان کو بنیاد بناکر مقامات (میدان) کی تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے ۔میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبوم نے منگل کے روزکہا کہ ان کا ملک جون میں نیوزی لینڈ، بیلجیئم اور مصرکے خلاف ایران کے میچوں کی میزبانی کے لیے تیار ہے ، تاہم حتمی فیصلہ فیفا کا ہوگا۔ دوسری جانب فیفا نے اس خصوص میں کہا ہیکہ وہ ایرانی فیڈریشن کے ساتھ رابطے میں ہیں لیکن فی الحال6 دسمبر 2025کو جاری کردہ شیڈول کے مطابق ہی تمام ٹیموں کے مقابلوں کے منتظر ہیں۔ کھلاڑیوں کی عالمی یونین فف پرونے بھی فیفا پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق اورکھلاڑیوں و شائقین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کرے ۔