اصولوں پر جہاں آنچ آئے ٹکرانا ضروری ہے
جو زندہ ہو تو پھر زندہ نظر آنا ضروری ہے
ایران کے ساتھ نیوکلئیر معاہدہ کیلئے مذاکرات اور بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے کے دوران امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ فضائی اور فوجی حملوں کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں۔ مشرق وسطی کو میدان جنگ میں بدلنے کے منصوبوں پر عمل آوری کی جا رہی ہے۔ مشرق وسطی میں واقع امریکی فوجی ٹھکانوں پر افواج اور فوجی ساز و سامان کا اجتماع کیا جا رہا ہے ۔ کئی جنگی جہاز مشرق وسطی کی سمت روانہ کردئے گئے ہیں۔ طیارہ بردار جہازوں کو بھی بھیجا جا رہا ہے ۔ ایران پر حملہ کی امریکہ کی جانب سے ہر ممکن تیاریاں کی جا رہی ہیں اور اسرائیل ان تیاریوں میں راست یا بالواسطہ طور پر امریکہ کی تائید و حمایت کر رہا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ کچھ عرب ممالک کی جانب سے اپنے حدود کو فضائی حملوںکیلئے استعمال کرنے کی اجازت دینے میں پس و پیش کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے تاہم انہیں بھی راضی کرنے کیلئے اسرائیل کی جانب سے در پردہ کوششیں شروع کردی گئی ہیں ۔ امریکہ کا جہاں تک سوال ہے تو وہ اس معاملے میں بھی خود کوئی فیصلہ کرنے کی بجائے اسرائیل کے پٹھو کی طرح ہی کام کر رہا ہے اور اسرائیلی مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے علاقہ کو میدان جنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اسرائیل کی جانب سے سارے مغرب ایشیاء پر اسرائیلی قبضہ اور تسلط کی بھی وکالت کی جا رہی ہے ۔ اسرائیل میں امریکی سفیر نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ اگر اسرائیل سارے مغرب ایشیا کا کنٹرول حاصل کرلیتا ہے تو یہ بھی غلط نہیں ہوگا ۔ اس سے امریکہ کے عزائم اور اس کے منصوبوں کا پتہ چلتا ہے ۔ امریکہ ایک طرح سے اسی کوشش کو آگے بڑھا رہا ہے کہ سارے مغرب ایشیاء پر اسرائیل کے تسلط کو یقینی بنایا جائے ۔ امریکہ نے اپنے دباؤ کے ذریعہ کچھ ممالک کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کیلئے تو پہلے ہی مجبور کردیا تھا اور اب یہ اندیشے لاحق ہونے لگے ہیں کہ سارے علاقہ پر اسرائیلی تسلط کو یقینی بنانے کی سمت کوششوں کا عملا آغاز کیا جائے ۔ اسرائیل کے عزائم اس معاملے میںڈھکے چھپے ہوئے نہیں ہیں تاہم امریکہ اب ان کا کھل کر اظہار اور اس کی تائید بھی کرنے لگا ہے ۔
امریکہ اور اسرائیل کو یہ احساس ہے کہ اسرائیل کے جو عزائم اور منصوبے ہیں ان کی راہ میں ایران ہی ایک رکاوٹ بن سکتا ہے ۔ ایران میں یہ جراء ت ہے کہ وہ فوجی طاقت کو خاطر میں لائے بغیر امریکہ سے آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرتا ہے اور اس کے حملوں پر جوابی کارروائی کی دھمکی دیتا ہے ۔ جو کچھ ایران کے بس میں ہے اس کے مطابق کارروائی کی تیاری بھی کی جاتی ہے اور ساتھ ہی سفارتی کوششوں کے ذریعہ حالات کو بہتر بنانے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ ایران سے اٹھنے والی رکاوٹ کو ختم کیا جائے ۔ اسی وجہ سے ایران کے روحانی رہنما اور وہاں کی مذہبی قیادت کو نشانہ بنانے کے منصوبے بھی بنائے جا رہے ہیں اور حملوں اور فوجی کارروائیوں کے ذریعہ ایران میں بھی ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کرنے کے ارادوں کا بھی اظہار کردیا گیا ہے ۔ کئی ممالک میں امریکہ اپنی طاقت کے بل پر ایسا کرچکا ہے اور وہ مشرق وسطی کیلئے بھی اسی طرح کے منصوبے رکھتا ہے ۔ ایران کے خلاف فوجی طاقت کا جو اجتماع ہو رہا ہے وہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہی کہا جاسکتا ہے اور ہر پہلو سے تیاریوں کو مکمل کرنے کے بعد امریکہ حملے میں دیر نہیں کرے گا ۔ وہ اس طرح کی جارحانہ کارروائیوں کیلئے اب بھی کچھ ممالک کو اپنا ہمنواء بنانے اور ان کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اس کے جارحانہ عزائم اور منصوبے تیار ہیں ۔
ایران کو نشانہ بنانے کی جو پہل ہے وہ پھر ایران تک محدود رہے ایسا بھی لازمی نہیں ہے۔ اسرائیل کے جو عزائم ہیں اور امریکہ جس طرح سے اسرائیلی مفادات کے تحفظ میں جٹ گیا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ اندیشے بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ ایران کی طاقت کو دبانے اور وہاں اپنے مقاصد کی تکمیل کرنے کے بعد امریکہ علاقہ کے دوسرے ممالک کیلئے بھی حالات دگرگوں کرنے سے گریز نہیں کریگا اور ان پر بھی دباو ڈالتے ہوئے اپنے احداف کی تکمیل کو یقینی بنائے گی ۔ عالم اسلام ‘خاص طور پر عالم عرب اور دنیا کے دوسرے ممالک نے اس معاملے میں ایران کو یکا و تنہا چھوڑ دیا ہے ۔ انہیں کم از کم اب حرکت میں آتے ہوئے ایران کے دفاع اور اس کے تحفظ کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں اور امریکہ پر دباؤ ڈالنا چاہئے ۔