تل ابیب: ایران کے ساتھ جنگ کی نقل کرنے والی فوجی مشقوں سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے کہا ہیکہ میرے پاس ایران اور عالمی برادری کیلئے ایک واضح پیغام یہ ہیکہ اسرائیل ایران کو ایٹم بم حاصل کرنے سے روکنے کیلئے وہ کریگا جو اسے کرنا چاہیے۔ایران کے بارے میں حالیہ اسرائیلی بیانات میں سے زیادہ تر ایران کے ایٹمی پروگرام کی پیشرفت پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان بیانات میں یکطرفہ کارروائی کرنے کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔تہران کی سفارتی سرگرمیوں کی تازہ ترین لہر سے اسرائیل کی بے چینی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ خاص طور پر چین کی ثالثی میں سعودی عرب کے ساتھ ایران کے سفارتی تعلقات کی بحالی نے اسرائیل کو پریشان کردیا ہے۔اس سال کے آغاز سے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے چین، شام، انڈونیشیا اور جنوبی امریکہ کے تین امریکی پابندیوں والے ملکوں کیوبا، نکاراگوا اور وینزویلا کیساتھ مختلف کثیر الجہت تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ابراہیم رئیسی کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے تہران کے تاریخی دورہ میں اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کی میزبانی کی اور خلیج کے تین ملکوں قطر، کویت اورسلطنت عمان میں اپنے ہم منصبوں سے ملاقات کی۔دوسری طرف امریکہ اور ایران نے مبینہ طور پر تہران کے نیوکلیئر پروگرام کو محدود کرنے کیلئے مذاکرات دوبارہ شروع کردیے۔ ایران نے زیر حراست امریکی شہریوں کو رہا کیا اور امریکہ نے کچھ ایرانی اثاثوں کو غیر منجمد کر دیا۔
آئندہ ماہ اردغان۔ نتن یاہو ملاقات
انقرہ: بلومبرگ نیوزایجنسی نے جمعہ کو باخبر ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردغان دو طرفہ تعلقات بہتر بنانے کے لیے آئندہ ماہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ذرائع نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ترک صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان کب اور کہاں ہو گی؟۔
خیال رہے کہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان پچھلے ایک عشرے کیدوران تعلقات سرد مہری کا شکار رہے ہیں۔ دو سال قبل ترکیہ نے اسرائیلی صدر کے دورہ انقرہ کے بعد تعلقات معمول پرلانے کے لیے اقدامات کیے تھے۔