تہران : ایران میں پارلیمانی انتخابات کیلئے دوبارہ ہونے والی ووٹنگ کے نتیجے میں قدامت پسند اور انتہائی قدامت پسندوں نے زیادہ سیٹیں حاصل کر کے ایوان پر اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ووٹرز کو جمعہ کے روز ان حلقوں میں دوبارہ ووٹ ڈالنے کے لیے بلایا گیا تھا جہاں امیدوار یکم مارچ کے انتخابات میں خاطر خواہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے یکم مارچ کو سب سے کم ووٹر ٹرن آؤٹ تھا، صرف 41 فیصد ووٹرز نے اپنا ووٹ ڈالا تھا۔مقامی میڈیا کے مطابق انتخابات سے پہلے تیار ہونے والی فہرست میں جن امیدواروں کو قدامت پسند یا انتہائی قدامت پسند کی کیٹیگری میں تقسیم کیا گیا تھا، ان امیدواروں نے جمعے کو 45 بقیہ نشستوں میں سے اکثریت حاصل کی۔ایران کے 31 میں سے 15 صوبوں میں جمعہ کو دوبارہ ووٹنگ ہوئی تھی۔سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ ملک میں پہلی مرتبہ تہران کے 22 میں سے آٹھ حلقوں سمیت تبریز اور شیراز کے شہروں میں جمعہ کو ووٹنگ کا عمل مکمل الیکٹرانک تھا۔ایرانی وزیر داخلہ احمد واحدی نے تہران میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر پہلے مرحلے کے مقابلے میں دوسرے میں کم لوگ شرکت کرتے ہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس مرتبہ ٹرن آؤٹ کتنے فیصد تھا۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ’کچھ پیشن گوئیوں کے برعکس، تمام امیدواروں کو نسبتاً قابل قبول اور اچھی تعداد میں ووٹ ملے۔‘نومنتخب ارکان 290 نشستوں پر مشتمل ایوان کے لیے 27 مئی کو سپیکر کا انتخاب کریں گے۔مارچ میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں 2 کروڑ 50 لاکھ ووٹرز نے حصہ لیا تھا جبکہ ایران میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 6 کروڑ 10 لاکھ ہے۔ایران میں اصلاحات کا مطالبہ کرنے والی جماعتوں کے اتحاد ’ریفارم فرنٹ‘ نے پہلے انتخابی مرحلے سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ ’بے معنی، غیر مسابقتی اور غیر مؤثر‘ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔