ایرانی نیوکلیئر رازچرانے کےخطرناک آپریشن میں خاتون ایجنٹ ملوث

   

تہران: مئی 2018ء میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں اپنی انٹرایکٹو پریس کانفرنس میں ایک پریزنٹیشن دے کر بم دھماکہ کیا جس میں انہوں نے فارسی میں بنائے ویڈیو کلپس، تصاویر اور دستاویزات کے حصول کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ سب ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے ثبوت اور ریکارڈ کا حصہ تھیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ یہ تمام دستاویزات ایران کے نیوکلیئر پروگرام کا پتا دیتی ہیں جن میں خفیہ نیوکلیئر سرگرمیوں کی تفصیلات موجود ہیں۔ انہوں نے ان دستاویزات کے حصول کو ٰایرانی نیوکلیئر پروگرام پر ایک کاری ضرب قرار دیا۔نتن یاہو کے مطابق اس وقت اسرائیلی موساد کے ارکان ایرانی دارالحکومت تہران میں داخل ہوئے اور تقریباً نصف ٹن دستاویزات لے کر اسرائیل واپس چلے گئے۔اس وقت سابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ‘ٹویٹر’ موجودہ ‘ایکس’ پلیٹ فارم پر ایک سابقہ ٹویٹ کے ساتھ نتن یاہو کے دعوے کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیکر مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نتن یاھو ایک ایسا بچہ ہے جسے جھوٹ بولنے کی عادت ہے اور وہ یہ عادت نہیں چھوڑ سکتا۔حال ہی میں اسرائیل کی جانب سے ایرانی نیوکلیئر دستاویزات کی چوری کے بارے میں ایک کتاب کی کہانی نے توجہ حاصل کی جسے اسرائیل پر حماس کے حملے سے دو ہفتے قبل شائع کیا گیا تھا، لیکن اس حملے کی وجہ سے اسے نمایاں جگہ نہیں مل سکی اور زیادہ توجہ اس جنگ پرمرکوزرہی ہے جو گذشتہ سال 7اکتوبر سے حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری ہے۔