ناموں کو حذف کرنے کی سازش، کالیشورم پر سی بی آئی جانچ پر نریندر مودی موقف کی وضاحت کریں
حیدرآباد 5 مئی (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیاکہ 10 مئی کو حیدرآباد آمد سے قبل کالیشورم پر سی بی آئی تحقیقات پر موقف کی وضاحت کریں۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی اور امیت شاہ نے کالیشورم پراجکٹ کو بی آر ایس حکومت کے لئے اے ٹی ایم قرار دیا تھا۔ اب جبکہ کانگریس حکومت نے سی بی آئی جانچ کے لئے مکتوب روانہ کردیا ہے، 9 ماہ گزرنے کے باوجود مرکزی حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کی حیدرآباد آمد سے قبل اِس مسئلہ پر موقف کی وضاحت کی جانی چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ بنڈی سنجے کے بیانات مرکزی وزیر کے عہدہ کو زیب نہیں دیتے۔ وہ گھٹیا الزام تراشی پر اُتر آئے ہیں۔ اُنھوں نے مرکزی حکومت سے سوال کیاکہ کالیشورم کی تعمیر میں ہزاروں کروڑ کی بے قاعدگیوں کو منظر عام پر لانے میں دلچسپی کیوں نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بنڈی سنجے اور کشن ریڈی کو اِس سلسلہ میں وضاحت کرنی چاہئے۔ انتخابات سے قبل بی جے پی قائدین نے کالیشورم کے ضمن میں سی بی آئی تحقیقات کا وعدہ کیا تھا۔ بنڈی سنجے کو وضاحت کرنی چاہئے کہ کے سی آر سے ہمدردی کا رویہ آخر کیوں ہے؟ اُنھوں نے بی جے پی اور بی آر ایس میں مفاہمت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ لوک سبھا انتخابات میں بی آر ایس کی مدد کے بغیر بی جے پی کے لئے 8 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔ ہریش راؤ نے بی جے پی کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا ہے۔ 8 نشستوں پر کامیابی کے جواب میں مرکزی حکومت کالیشورم پر جانچ سے گریز کررہی ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے الزام عائد کیاکہ مغربی بنگال میں بی جے پی نے ووٹ چوری کے ذریعہ کامیابی حاصل کی ہے۔ 90 لاکھ رائے دہندوں کے نام فہرست سے خارج کردیئے گئے اور عام حالات میں بی جے پی کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں تھا۔ الیکشن کمیشن کی مدد سے ووٹ چوری کی گئی اور بنگال کا اقتدار حاصل کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے تلنگانہ میں ایس آئی آر مہم کے سلسلہ میں عوام کو چوکسی کا مشورہ دیا اور کہاکہ فہرست رائے دہندگان میں اپنے ناموں کی برقراری کو یقینی بنائیں۔ اُنھوں نے کہاکہ کسی بھی کوتاہی کی صورت میں مغربی بنگال اور بہار کی طرح بڑے پیمانہ پر نام حذف کردیئے جائیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ ممتا بنرجی اور اروند کجریوال کے خلاف مقدمات درج کئے گئے لیکن کے سی آر کے خلاف ایک بھی کیس درج نہیں کیا گیا۔V/1/A/b