قرض نادہندگان میں غیر معمولی اضافہ ، آر بی آئی کے اعداد و شمار میں انکشاف
حیدرآباد۔11ڈسمبر(سیاست نیوز) ملک میں ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو بھی غیر کارکرد کھاتوں کی سنگین صورتحال کا سامنا ہے اور بینک کے قرض نادہندگان کی تعداد میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا جا رہاہے جو کہ صورتحال کو مزید سنگین بناتا جا رہاہے۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے جاری سہ ماہی رپورٹ میں 6ہزار968 کروڑ کا خسارہ پیش کئے جانے کا امکان ہے جبکہ کہا جا رہا تھا کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا جاریہ سہ ماہی تختۂ حساب کے دوران 862 کروڑ کا منافع ریکارڈ کروائے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ ناقابل وصول قرض کی رقومات میں ہونے والے بتدریج اضافہ کے ریکارڈ کو اب تک ظاہر نہیں کیا گیا تھا جس کے سبب صورتحال بہتر نظر آرہی تھی لیکن اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ناقابل وصول قرض کے منفی اثرات بینک پر مرتب ہونے لگے ہیں اور ان ناقابل وصول قرضہ جات کی وصولی کے نظام کے سبب بھی بینک کو بھاری خسارہ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ریزرو بینک آف انڈیا کے مطابق اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے 1لاکھ 18ہزار کروڑ کے قرضہ جاتی کا ریکارڈ پیش کیا گیا ہے جس میں 1لاکھ 6ہزار کروڑ بینک کی جانب سے جاری کئے گئے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ناقابل وصول قرضہ جات کی رقومات مجموعی اعتبار سے 3ہزار 143 کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور ایس بی آئی کا انحصار 687 کروڑ پر رہا لیکن اب نئے اعداد و شمار جاری کئے جانے کا امکان ہے۔ریزرو بینک آف انڈیا کے مطابق اسٹیٹ بینک آف انڈیا کو مالی سال 2019 کے دوران 1لاکھ 84ہزار کروڑ کے ناقابل وصول قرضہ جات کی نشاندہی کرنی تھی لیکن اس کے برعکس اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے مالی سال 2019 کے دوران 1لاکھ 72ہزار کروڑ کی ہی نشاندہی کی ہے جو کہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا اور ریزرو بینک آف انڈیا کے اعداد و شمار میں پیدا ہونے والے فرق کو ظاہر کرتا ہے اسی لئے ریزرو بینک کے اعداد و شمار کے بعدجاریہ سہ ماہی کے دوران اسٹیٹ بینک کی جانب سے خسارہ ظاہر کیا جاسکتا ہے۔