اتم کمار ریڈی کی قیادت میں کابینی سب کمیٹی کا اجلاس، بی سی طبقات کے سماجی اور معاشی سروے کی حکومت سے سفارش
حیدرآباد۔/8 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق ایس سی زمرہ بندی کے مسئلہ پر قائم شدہ کابینی سب کمیٹی کا اجلاس وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کابینی سب کمیٹی کے ارکان وزیر پنچایت راج ڈی انوسیا سیتکا ، وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر، وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو، وزیر صحت دامودھر راج نرسمہا، چیف سکریٹری شانتی کماری، ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی اور دوسروں نے شرکت کی۔ کابینی سب کمیٹی نے ایس سی زمرہ بندی کے مسئلہ پر ایک رکنی جوڈیشیل کمیشن کے قیام کی کابینہ سے سفارش کرنے کا فیصلہ کیا۔ کابینی سب کمیٹی کے ابھی تک تین اجلاس منعقد ہوچکے ہیں اور آج کے اجلاس میں ایس سی زمرہ بندی کیلئے 2011 مردم شماری کو بنیاد بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس نے فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی قیادت میں ایک رکنی جوڈیشیل کمیشن کے قیام کی ریاستی حکومت سے سفارش کی جائے۔ جوڈیشیل کمیشن ایس سی کے مختلف طبقات میں پسماندگی کے معیار کا جائزہ لے گا۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ زمرہ بندی پر عمل آوری مکمل قانونی دائرہ میں ہونی چاہیئے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایڈوکیٹ جنرل نے جوڈیشیل کمیشن کے قیام کیلئے ٹرمس آف ریفرنس کا مسودہ حکومت کو پیش کردیا ہے۔ تلنگانہ میں مختلف ریکروٹمنٹس بورڈس کو ایس سی طبقہ میں ذیلی طبقات سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی جس میں تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن، سنگارینی کالریز کمپنیز لمیٹیڈ اور پولیس ریکروٹمنٹ بورڈاور ٹرانسمیشن کارپوریشن شامل ہیں۔ محکمہ فینانس سے 30 فیصد تفصیلات حاصل ہوچکی ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایس سی زمرہ بندی کیلئے مختلف طبقات، اداروں اور انفرادی افراد کی جانب سے جملہ 1082 نمائندگیاں آن لائن اور آف لائن موصول ہوئی ہیں۔ ریاست کے عہدیداروں کی ٹیم نے پنجاب اور ٹاملناڈو کا دورہ کرتے ہوئے ایس سی زمرہ بندی پر عمل آوری کا جائزہ لیا۔ ہریانہ میں انتخابات کے پیش نظر دورہ کو ملتوی کیا گیا۔ پنجاب میں ایس سی طبقات کو دو ذیلی زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بالمیکی مذہبی سکھ کو ایک گروپ میں رکھا گیا ہے جبکہ 37 دیگر طبقات کو ملازمت کیلئے دیگر گروپ میں شامل کیا گیا۔ 25 فیصد ایس سی تحفظات میں بالمیکی اور مذہبی سکھ کو 12.5 فیصد اور دوسروں کو 12.5 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے ہیں۔ ٹاملناڈو میں ایس سی طبقات کو تعلیم اور ملازمت میں 18 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے۔ ٹاملناڈو میں 76 ایس سی ذیلی طبقات ہیں۔ ٹاملناڈو حکومت نے جسٹس ایم ایس جنارتھنم کی قیادت میں ون مین کمیٹی قائم کی ہے جو زمرہ بندی کا جائزہ لے گی۔ وزیر پنچایت راج ڈی سیتکا نے زمرہ بندی کا عمل مقررہ مدت میں مکمل کرنے اور کمیٹیی کو راست طور پر اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے رائے عامہ حاصل کرنے کی تجویز پیش کی۔ اتم کمار ریڈی نے بتایا کہ کمیٹی عنقریب مختلف اضلاع کا دورہ کرتے ہوئے ایس سی زمرہ بندی پر عوام کی رائے حاصل کرے گی۔ کمیٹی نے پسماندہ طبقات کے سماجی اور معاشی سروے کیلئے حکومت سے سفارش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے مطابق 9 ڈسمبر تک سروے کا عمل مکمل کیا جانا چاہیئے۔1