ایغور مسلمان چینی حکومت کے بدستور ظلم و تشدد کا شکار

,

   

بیجنگ ۔ 18 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) چین میں ایغور مسلم اقلیت کو مذہب اور ثفاقت کی بنیاد پر بدستور حکومتی ظلم و جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ بات قیدیوں کی ایک ایسی فہرست سے سامنے آئی ہے، جو ڈوئچے ویلے اور دیگر نشریاتی اداروں کو فراہم کی گئی ہے۔ اس فہرست میں ژنجیانگ کے ایک چھوٹے سے علاقے سے تعلق رکھنے والے تین سو سے زائد ایغور قیدیوں کے حالات درج ہیں۔ جرمن دفتر خارجہ کے خفیہ دستاویزات میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ چین کے اس صوبے میں کم از کم ایک ملین ایغوروں کو نظر بند کیا گیا ہے۔ ان میں ایک امام ایمر بھی شامل ہیں جو ہر جمعہ کو یہ خطبہ دیتے ہیں کہ اسلام امن کا مذہب ہے اور ہر اتوار کو جڑی بوٹی دواؤں کے ذریعہ بیماروں کا علاج کرتے ہیں اور سردی کے دنوں میں غریبوں کو کوئلہ فراہم کرتے ہیں۔ پولیس نے ان کے تینوں بیٹوں کو تین سال قبل حراستی کیمپ میں بھیج دیا تھا۔ ڈیٹا سے اس بات کا انکشاف ہوتا ہیکہ بڑی تعداد میں لوگوں کو حراستی کیمپ میں رکھنے کا اصل مقصد مذہب ہے۔ اس ریسرچ اسکالر نے بتایا کہ مذہبی امور کے پابند افراد کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے ۔