ایغورمسلمانوں کیساتھ سختی پر چین کیخلاف امریکی ایوان نمائندگان میں بل منظور

   

واشنگٹن :امریکی ایوان نمائندگان کے اراکین نے ایغور مسلمانوں کے ساتھ سختی پر چین کے صوبے سنکیانگ سے درآمدات پر پابندی کے لیے قانون منظور کرلیا۔ میڈیاکے مطابق ایوان نمائندگان میں ‘ایغور فورس لیبر پویونشن ایکٹ’ ایک ووٹ کے مقابلے میں 428 کی اکثریت سے منظور کرلیا، جس کے تحت چین سے درآمدات کرنے والے اداروں کو ثابت کرنا ہوگا کہ مذکورہ اشیا سنکیانگ میں جبری مزدوری کے ذریعے تیار نہیں کی گئی ہیں۔اسپیکر نینسی پلوسی نے ووٹنگ سے پہلے اراکین سے کہا تھا کہ اس وقت بینجنگ ایغور اور دیگر مسلمان اقلیتوں کے خلاف جبر اور ان کو دبانے کی مہم میں تیزی لارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سنکیانگ اور پورے چین میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہورہی ہے، عوام کی نگرانی اور کارروائیاں کی جارہی ہیں، جس میں لوگوں پر تشدد، گرفتاریاں اور جبری طور پر نس بندی اور سچ کوسامنے لانے کی جرات کرنے والے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو دھمکانا شامل ہے۔نینسی پلوسی کا کہنا تھا کہ چین کی حکومت کی جانب سے ہونے والی جبری مزدوری چین سے باہر پوری دنیا اور ہماری سرحدوں تک پہنچ گئی ہے۔امریکی سینیٹ نے اس سے قبل اسی طرح کے اقدامات کی منظوری دی تھی اور اب ان دونوں کو مزید قانونی شکل دینے کی ضرورت ہے۔اس بل کو اب دستخط کے لیے صدر جوبائیڈن کے پاس بھیج دیا جائے گا تاہم اس بل کے حوالے سے یہ بات واضح نہیں ہے کہ وائٹ ہاؤس کی حمایت حاصل ہے یا نہیں۔