چینی فوج لاٹھیوں ، لوہے کی سلاخوں کے ساتھ پہنچ گئی، جوابی کارروائی کرنے انڈین فوج کا دعویٰ
نئی دہلی/ لداخ۔ لداخ کے پینگونگ جھیل کے جنوبی علاقہ میں ہندوستان کے سخت قدم سے پریشان چین نے بزدلانہ حرکت کرنے کی کوشش کی ۔ چینی فوج کو بھالے اور بندوقوں سے لیس دیکھا گیا۔ ہندوستانی چوکی کی جانب بڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے چین کی فوج اپنے ساتھ لاٹھیاں ، بھالے ، لوہے کی سلاخیں اور تیز دھاری دار ہتھیار لے کر جمع ہونے لگی۔ تقریباً 50 تا 60 فوجی شام 6 بجے کے قریب ہندوستانی چوکی کی جانب بڑھ رہے تھے لیکن وہاں تعینات ہندوستانی فوج کے جوانوں نے انہیں روکا اور انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا ۔ گلوان وادی میں 15 جون کو ہوئی جھڑپوں کے دوران بھی چین کی فوج نے پتھروں ، کیل لگے ہوئے ڈنڈوں ، لوہے کی سلاخوں سے ہندوستانی فوجیوں پر حملہ کیا تھا جس سے 20 ہندوستانی جوان شہید ہوگئے تھے ۔
ہندوستان اور چین کے درمیا ن حقیقی خطہ قبضہ ایل اے سی پرکشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے، 45 سال میں پہلی بار ہندوستانی اور چینی افواج کے درمیان فائرنگ کے تبادلہ کی اطلاعات ہیں۔ پیر کی دیر رات پینگونگ تسو جھیل پر لائن آف ایکچول کنٹرول کے پاس ہندوستان اور چین کی فوجیوں میں گولی باری کا واقعہ ہوا ہے۔ چین کی سرکاری میڈیا ‘ گلوبل ٹائمس’ نے ہندوستانی افواج پر پینگانگ تسو کے جنوبی کنارے پر فائرنگ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ حالانکہ، فوج سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کی طرف سے ہندوستانی خطے میں پہلے فائرنگ کی گئی جس کے بعد ہندوستان کی طرف سے جوابی کارروائی ہوئی۔ فی الحال صورت حال کنٹرول میں ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ چینی وزارت دفاع، چینی پیپلز لبریشن آرمی کے ویسٹرن تھئیٹر کمان کے ترجمان کرنل جھانگ شوئلی کی طرف سے ایل اے سی پر تازہ صورت حال کو لے کر بیان جاری کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی فوجیوں کی طرف سے مبینہ طور پر مشتعل کرنے کی کارروائی کی گئی جس سے چینی افواج کی طرف سے جوابی کارروائی ہوئی۔چینی میڈیا کے ترجمان نے الزام لگایا کہ جب چینی فوج کی گشتی پارٹی ہندوستانی جوانوں سے بات چیت کرنے کے لئے آگے بڑھی تو انہوں نے جواب میں فائرنگ شاٹ کئے گئے ۔