سی پی آئی اور مجلس کو نشست کا امکان موہوم، جاریہ ہفتہ چیف منسٹر کا دورہ دہلی، امیدواروں کو قطعیت
حیدرآباد 2 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ایم ایل اے کوٹہ کی 5 ایم ایل سی نشستوں کے انتخابات میں حکومت کی حلیف سی پی آئی اور نئے دوست مجلس کو نمائندگی کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس ہائی کمان نے ایم ایل اے کوٹہ کی نشستوں میں فی الوقت دونوں پارٹیوں کو ایک بھی نشست نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ گزشتہ 10 برسوں سے پارٹی میں عہدوں سے محروم قائدین کو نمائندگی دی جاسکے۔ اسمبلی انتخابات سے قبل سی پی آئی کو اسمبلی کی ایک نشست الاٹ کی گئی اور حکومت کی تشکیل کے بعد کونسل میں 2 نشستیں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن موجودہ صورتحال میں سی پی آئی کو نشست الاٹ کرنا ممکن دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ کونسل میں جن 5 ارکان کی میعاد 29 مارچ کو ختم ہورہی ہے اُن میں محمد محمود علی، ستیاوتی راٹھوڑ، ایس سبھاش ریڈی، وائی ملیشم (تمام بی آر ایس) اور ریاض الحسن آفندی (مجلس) شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے 5 نشستوں پر انتخابات کا اعلان کردیا اور کل 3 مارچ کو نوٹیفکیشن جاری کیا جائیگا۔ 10 مارچ تک پرچہ جات نامزدگی داخل کئے جاسکتے ہیں جبکہ 13 مارچ کو نام واپس لینے کی گنجائش رہے گی۔ 5 سے زائد امیدواروں کی صورت میں 20 مارچ کو رائے دہی ہوگی اور اُسی دن شام میں نتیجہ کا اعلان کیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق مجلس سے ریاستی قیادت پر دباؤ بنایا جارہا ہے کہ ریاض الحسن کی سبکدوشی کے بعد دوبارہ مجلس کو نشست الاٹ کی جائے ۔ مجلس نے اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کی کھل کر تائید کی تھی لہذا کانگریس ہائی کمان مجلس کو ایم ایل اے کوٹہ کی نشستوں میں نمائندگی دینے تیار نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی کمان نے واضح کردیا کہ فی الوقت مجلس کو نشست الاٹ نہیں کی جاسکتی تاہم جی ایچ ایم سی انتخابات میں مفاہمت کرکے بعد میں کارپوریشن کی ایم ایل سی نشست دی جاسکتی ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے تحت ایم ایل سی کی نشست جاریہ سال کے اواخر میں خالی ہوگی۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی اور صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے ایم ایل سی الیکشن پر ہائی کمان سے ابتدائی مشاورت کی ہے۔ توقع ہے کہ جاریہ ہفتہ دونوں دہلی روانہ ہونگے اور امیدواروں کو قطعیت دی جائیگی۔ جی ایچ ایم سی پر قبضہ کیلئے مجلس کی تائید ضروری ہے لہذا اُسے کارپوریشن کی ایم ایل سی نشست الاٹ کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اسمبلی میں عددی طاقت کے اعتبار سے کانگریس 4 اور بی آر ایس ایک نشست پر کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ کانگریس کی 4 نشستوں کیلئے کئی دعویدار میدان میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے ہائی کمان کو تجویز پیش کی ہے کہ سماجی انصاف کے تحت 4 نشستیں بی سی، ایس سی، ایس ٹی اور مسلم اقلیت کو الاٹ کی جائے۔ توقع ہے کہ جاریہ ہفتہ چیف منسٹر کے دورہ دہلی میں امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دی جائیگی۔ 1