مسلم حکمرانوں کی غلط ترجمانی، نامور مورخ ڈاکٹر روچیکا شرما کے تاثرات
حیدرآباد۔ 28 ڈسمبر (سیاست نیوز) معروف تاریخ داں ڈاکٹر روچیکا شرما نے این سی ای آر ٹی کی نصابی کتب میں تحریفات اور نظرثانی کی مخالفت کی اور کہا کہ یہ اقدام موجودہ تعلیمی نظام اور طلبہ کے لئے نقصاندہ ہے۔ انڈین ہسٹری فورم کے زیر اہتمام این سی ای آر ٹی کی تاریخی نصابی کتابوں میں تبدیلی اور نظرثانی کے عنوان پر ویبنار کا اہتمام کیا گیا۔ ڈاکٹر روچیکا شرما نے این سی ای آر ٹی کی تاریخی کتابوں میں حالیہ تبدیلیوں کے ذریعہ ملک کے لاکھوں طلبہ کو غلط معلومات کی فراہمی پر ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے طلبہ کو تاریخ کے بارے میں گمراہ کن اور غلط معلومات کی فراہمی کے ذریعہ سماجی ہم آہنگی پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ لیا۔ ڈاکٹر روچیکا شرما نے کہا کہ 12 سے 14 سال کی عمر کے طلبہ کے لئے این سی ای آر ٹی کا نصاب ہندوستانی تاریخ کے حصہ میں ایک مخصوص نظریاتی جھکاؤ پر مشتمل ہے۔ مسلم حکمرانوں اور خاص طور پر مغلیہ دور حکومت میں لوٹ مار، غارت گیری اور تباہی کے علاوہ حکمرانوں کو ظالم کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ایسے غیر مسلم حکمراں جنہوں نے مذہبی رواداری کی خلاف ورزی کی ان کے واقعات کو نصابی کتب میں شامل نہیں کیا گیا۔ چھٹویں تا آٹھویں جماعت کی نصابی کتابوں کے تجزیہ کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر روچیکا شرما نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خاص ایجنڈہ کے تحت دانستہ طور پر یہ پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ انہوں نے ہائر ایجوکیشن کی نصابی کتب میں تبدیلیوں کا حوالہ دیا جن میں 11 ویں اور 12 ویں جماعت کی کتابیں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تبدیلی تاریخی حقائق کے برخلاف ہے اور ذات پات کے جبری نظام کو کمزور کیا گیا ہے۔ این سی ای آر ٹی کی جانب سے ماہرین کی کمیٹیوں کی تشکیل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے روچیکا شرما نے کہا کہ کمیٹیوں میں ایسے افراد کی موجودگی نصابی کتابوں کو متاثر کرسکتی ہے جن کی نظریاتی وابستگی مشکوک ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں مندروں کی مبینہ انہدام کے مسئلہ پر ڈاکٹر شرما نے کہا کہ اس رجحان کے ذریعہ مسلم حکمرانوں کی تصویر غلط انداز میں پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے عہد وسطی کے جنوبی ہندوستان میں بھکتی دور کی مثال پیش کی جہاں جین مت اور بدھ مت سے وابستہ مندروں کو فرقہ وارانہ جذبہ کے تحت منہدم یا تبدیل کیا گیا۔ ہندوستان کی جدید تاریخ سے پہلے مذہبی شناخت منقسم نہیں تھی۔ غیر مسلم روایات کے درمیان کافی اختلافات موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ مندروں کی مسماری مذہب کی بجائے سیاسی اور معاشی محرکات پر مبنی تھی۔ انہوں نے مغل اور راجپوت سیاسی اتحاد اور تعاون کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ملک عنبر کی جانب سے مراٹھا افواج کے استعمال کی مثالیں موجود ہیں۔ زیادہ تر تنازعات میں مذہب کے بجائے سیاسی مصلحت کارفرما رہی۔ ڈاکٹر شرما نے شیواجی کو ایک کٹر ہندو کے طور پر پیش کئے جانے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک متحدہ ہندو مت نوآبادیاتی دور کی تشکیل ہے۔ 12 ویں جماعت کی درسی کتابوں میں آریائی دور حکومت میں نقل مقام کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ نصابی کتب میں تبدیلیوں کے ذریعہ تاریخ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکومت کی سرپرستی میں کی جانے والی تبدیلیوں پر ڈاکٹر شرما نے ماہرین تعلیم کو اس سلسلہ میں دباؤ کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی اور علمی انداز میں صورتحال کا مقابلہ کیا جائے۔ 1
