اینڈی برنہم ‘ مشکل سفر درپیش

   

اگر بخشے زہے رحمت نہ بخشے تو شکایت کیا
سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے
برطانیہ میں آئندہ ہفتے نئے وزیر اعظم کا تقرر عمل میں آئے گا ۔ برسر اقتدار لیبر پارٹی لیڈر کی حیثیت سے اینڈی برنہم کی توثیق ہوچکی ہے اور وہ عملا نامزد وزیر اعظم قرار دئے جاسکتے ہیں۔ لیبر پارٹی نے انہیں اپنا لیڈر منتخب کرلیا ہے ۔ لیبر پارٹی کی قومی عاملہ کمیٹی کی سربراہ شبانہ محمود نے لندن میں پارٹی کے ایک خصوصی اجلاس میں مسٹر برنہم کے لیبر پارٹی لیڈر منتخب ہونے کا اعلان کیا ۔ مسٹر برنہم کے مقابلہ میں لیبر پارٹی میں کسی اور لیڈر کو وزارت عظمی کی دعویداری پیش کرنے کا موقع ہی نہیں رہا اور برنہم بطور لیڈر منتخب ہوگئے ہیں۔ اب ان کا وزیر اعظم برطانیہ کی حیثیت سے حلف لینا محض ایک ضابطہ کی کارروائی رہ گئی ہے ۔ 20 جولائی پیر کو برطانیہ کے شاہ چارلس سوم مسرٹ برنہم کو نئی حکومت تشکیل دینے کی دعوت دے سکتے ہیں اور شائد اسی دن ان کی حلف برداری بھی منعقد ہوسکتی ہے ۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم برطانیہ کی حیثیت سے مسٹر کئیر اسٹارمر نے استعفی پیش کردیا تھا جس کے بعد نئے وزیر اعظم کے انتخاب کی راہ ہموار ہوئی تھی ۔ لیبر پارٹی میں ہی شدید مخالفت کے بعد اسٹارمر نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا ۔ برنہم کی وزارت عظمی کیلئے دعویداری کو لیبر پارٹی کے کسی اور لیڈر نے چیلنج نہیں کیا تھا اور وہ واحد دعویدار بن کر ابھرے ہیں۔ اب جبکہ ان کی وزیر اعظم برطانیہ کی حیثیت سے حلف برداری یقینی ہوگئی ہے تو یہ بات واضح ہے کہ وزارت عظمی ان کیلئے پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں بھرا تاج ہوسکتی ہے ۔ برطانیہ میں گذشتہ چند برسوں میں ایسی صورتحال رہی کہ کئی وزرائے اعظم نے ذمہ داری سنبھالی ہے لیکن سیاسی استحکام ندارد ہی رہا ہے ۔ کسی بھی وزیر اعظم کو زیادہ وقت تک وزارت عظمی پر فائز رہنے کا موقع نہیں ملا اور انہیں حالات کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا تھا ۔ اسٹارمر سے امید کی جا رہی تھی کہ وہ وزارت عظمی کی ذمہ داری پوری معیاد تک نبھائیں گے لیکن انہیں بھی توقع سے جلد ہی استعفی پیش کرنا پڑا ہے ۔ ان کے بعد مسٹر برنہم کی وزارت عظمی کی دعویداری سامنے آئی اور اب اس کی توثیق بھی ہوچکی ہے ۔
برطانیہ میں جو حالات حالیہ عرصہ میں پیدا ہوئے ہیں ان کے نتیجہ میں برنہم کیلئے سفر آسان نہیں ہوگا ۔ کئی محاذ ایسے ہیں جن پر ان کی قیادت کا امتحان ہوگا اور انہیں مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ حالیہ عرصہ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بھی عملا برطانیہ کے ناقدین میں شامل ہوگئے ہیں۔ ایران کے خلاف جنگ کے معاملے میں ٹرمپ کو برطانیہ سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد وہ کھلے عام برطانیہ پر تنقید کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں مہنگائی کی وجہ سے مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ محاصل میں اضافہ کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کی عوام شدید مخالفت کر رہے ہیں اور جو فلاحی امور کے اخراجات ہیں ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے سرکاری خزانہ پر بوجھ عائد ہو رہا ہے ۔ برطانیہ کے عوام کا جہاں تک سوال ہے انہیں اخراجات زندگی پورے کرنے مشکل ہو رہے ہیں ۔ محاصل میں اضافہ کے بغیر ان اخراجات کی تکمیل میں مشکل پیش آ رہی ہے ۔ اس کے علاوہ یوروپ کے تقاضوں کی تکمیل بھی برطانیہ کیلئے آسان نہیں ہوگی ۔ برطانوی معیشت کی ترقی کی رفتار وہ نہیں رہی ہے جس کی توقع اور امید کرتے ہوئے برطانوی عوام نے لیبر پارٹی کو ووٹ دیا تھا ۔ اس کے نتیجہ میں بھی حکومت کی کارکردگی پر اثر پڑا ہے اور اسے عوام اور سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ خود لیبر پارٹی کے قائدین کی جانب سے بھی تنقیدوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے ۔
ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے اور داخلی دباؤ کے باعث جب اسٹارمر نے استعفی پیش کردیا تو برنہم نے یہ ذمہ داری سنبھالی ہے ۔ حالیہ ضمنی انتخاب میں وہ پارلیمنٹ کیلئے منتخب ہوئے تھے جس کے بعد ان کو وزارت عظمی کا تاج پہنایا جا رہا ہے ۔ انہیں اس ذمہ داری کی تکمیل میں کئی مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور خاص طور پر برطانوی عوام کو معاشی مشکلات سے راحت دلانا اہمیت کا حامل ہوگی ۔ وہ اس ذمہ داری کی تکمیل میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں یہ ابھی قیاس نہیں کیا جاسکتا ۔