شنگھائی : چین میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں ایک کمپنی کے HR مینیجر نے آٹھ سالوں تک 22 جعلی ملازمین کی حاضری درج کروا کر کمپنی کو تقریباً 18 کروڑ روپے (16 ملین یوان) کا نقصان پہنچایا۔جنوبی چین مارننگ پوسٹ کے مطابق، یانگ نامی ایک شخص شنگھائی میں ایک لیبر سروس کمپنی میں مینیجر کے طور پر تعینات تھا۔ اس کا بنیادی کام ایک فرم کو فراہم کردہ مزدوروں کی تنخواہوں کا انتظام کرنا تھا۔ آٹھ سال قبل، یانگ نے کمپنی کے نظام میں بڑی خامی دیکھی کہ ملازمین کی بھرتی اور تنخواہوں کی ترسیل کے مکمل اختیارات صرف اسی کے پاس ہیں۔ اس نے موقع سے فائدہ اٹھاکر سب سے پہلے سن نام کے جعلی ملازم کی رجسٹریشن کی اور ایک ماہ بعد اس کے نام پر تنخواہ جاری کروا لی۔ بعد ازاں، یہ رقم ایک جعلی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دی گئی۔ یہ دھوکہ بغیر کسی مشکل کے جاری رہا۔ 2014 میں یانگ نے مزید جعلی ملازمین کی بھرتی کا فیصلہ کیا اور مسلسل نئے جعلی ملازمین شامل کرتا گیا۔ 2022 تک، وہ 22 جعلی ملازمین کا نیٹ ورک قائم کر چکا تھا، جن کی تنخواہیں باقاعدگی سے جاری کی جا رہی تھیں۔ یہ تمام جعلی ملازمین کمپنی کے پے رول پر موجود تھے لیکن حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں تھا۔آٹھ سال تک یہ اسکینڈل بغیر کسی روک ٹوک کے جاری رہا۔ تاہم کمپنی کے مالیاتی شعبے نے ایک مشکوک پہلو نوٹ کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ سن نامی ملازم مسلسل آٹھ سال سے کام پر آ رہا ہے اور تنخواہ بھی وصول کر رہا ہے، لیکن حیران کن طور پر اسے کسی نے دیکھا نہیں، نہ کمپنی میں اس کا کوئی دوست یا ساتھی تھا۔ اس مشکوک صورتحال پر، مالیاتی شعبے نے کمپنی کے اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا۔ بعد ازاں، جب پے رول ریکارڈ اور بینک ٹرانزیکشنز کی گہرائی سے چھان بین کی گئی تو یانگ کی جعلسازی کا پردہ فاش ہو گیا۔