ایچ سی ایل ٹیک کمپنی حیدرآباد میں نیا ٹکنالوجی سنٹر قائم کرے گی

   

پانچ ہزار ملازمتوں کی فراہمی، کمپنی عہدیداروں کی چیف منسٹر اور وزیر آئی ٹی سے ملاقات

حیدرآباد۔/22 جنوری، ( سیاست نیوز) ورلڈ اکنامک فورم اجلاس کے موقع پر تلنگانہ میں سرمایہ کاری کیلئے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ معاہدات کا سلسلہ جاری ہے۔ ایچ سی ایل ٹیک کمپنی نے حیدرآباد میں نئے ٹکنالوجی سنٹر کے قیام کے ذریعہ سرگرمیوں میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ توسیعی منصوبہ کے تحت 5 ہزار اضافی روز گار کے مواقع پیدا کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو سے ایچ سی ایل ٹیک کے سی ای او و منیجنگ ڈائرکٹر سی وجئے کمار نے ملاقات کے بعد توسیعی منصوبہ کا اعلان کیا۔ کمپنی نے اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کیلئے ایک نئے سنٹر کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ آرٹیفیشل انٹلیجنس، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، لائف سائنس اور فینانشیل سرویسس جیسے شعبہ جات میں خدمات فراہم کی جائیں گی۔ ہائی ٹیک سٹی میں 5000 آئی ٹی ملازمین کے ساتھ کمپنی کا پہلے سے سنٹر قائم ہے جسے کئی ایوارڈز حاصل ہوئے ہیں۔ سی وجئے کمار نے کہا کہ حیدرآباد میں عالمی معیار کی انفرااسٹرکچر سہولتیں موجود ہیں اور ایچ سی ایل ٹیک گلوبل نیٹ ورک نے نئے سنٹر کے قیام کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مقامی ٹکنالوجی میں مدد دی جاسکے۔ وجئے کمار نے چیف منسٹر اور وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کو آئندہ ماہ نئے ٹکنالوجی سنٹر کے افتتاح کیلئے مدعو کیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کمپنی کے توسیعی منصوبہ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ حیدرآباد انفارمیشن ٹکنالوجی کے عالمی اداروں کی توجہ کا مرکز ہے اور دنیا کے نمایاں آئی ٹی ہب میں تبدیلی کے موقف میں ہے۔ ڈی سریدھر بابو نے کہا کہ حکومت ٹکنالوجی کے فروغ کیلئے عالمی اداروں کو مدعو کررہی ہے۔ مقامی نوجوانوں کو ایچ سی ایل ٹیک کے نئے سنٹر میں روزگار حاصل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ ایچ سی ایل ٹیک 2007 سے حیدرآباد میں قائم ہے اور حیدرآباد میں نئے سنٹر کے بعد 8500 نشستوں کی گنجائش رہے گی۔1