ایک ایسا ملک جہاں 96 سال سے کوئی بچہ پیدا نہیں ہوا

   

ویٹکن سٹی : ایک طرف ہندوستان دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن گیا ہے تو وہیں پاکستان میں بھی آبادی کی شرح تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے۔لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس روئے زمین پر ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں 96 سال میں کوئی بچہ ہی پیدا نہیں ہوا اور یہی نہیں اس ملک میں کوئی ہاسپٹل بھی نہیں ہے۔ یقیناً آپ سوچ رہے ہوں گے 21 ویں صدی میں دنیا کا کوئی ملک ہاسپٹل کے بغیر ہو سکتا ہے؟ لیکن ایسی جگہ ویٹی کن سٹی ہے جسے دنیا کا سب سے چھوٹا ملک تسلیم کیا گیا ہے، اس ملک میں کوئی ہاسپٹل نہیں اور 96 سالوں میں وہاں ایک بھی بچہ پیدا نہیں ہوا۔اس سوال کا جواب ملک کی مذہبی اہمیت میں مضمر ہے، اس ملک کی تشکیل 11 فروری 1929 کو کی گئی، ویٹی کن سٹی کیتھولک چرچ کا روحانی اور انتظامی ہیڈکوارٹر ہے جہاں تمام مذہبی رہنما بشمول پادری بھی مقیم ہیں۔ہاسپٹل کے لیے متعدد درخواستوں کے باوجود، ویٹی کن سٹی میں آج تک کوئی ہاسپٹل نہیں بنایا جا سکتا، اور جو لوگ بیمار یا خواتین حاملہ ہوں انہیں اس جگہ سے تھوڑی دوری پر روم کے ہاسپٹلوں میں بھیجا جاتا ہے۔ہاسپٹل کیوں نہیں بنایا گیا؟ملک بھر میں ہاسپٹل کی عدم موجودگی ویٹی کن سٹی کا چھوٹا سائز بھی ہو سکتا ہے، ویٹی کن سٹی صرف 118 ایکڑ پر محیط ہے، ملک میں ڈیلیوری روم نہ ہونے کی وجہ سے یہاں تقریباً ایک صدی سے کوئی بچہ ہی پیدا نہیں ہوا۔ویٹی کن سٹی، جس کی آبادی صرف 800 سے 900 افراد پر مشتمل ہے اور ان میں بھی زیادہ تر پادری اور مذہبی رہنما شامل ہیں۔