ڈگ وجئے سنگھ کا دعویٰ، مدھیہ پردیش میں سیاسی بحران کیلئے بی جے پی پر الزام
نئی دہلی ۔ 11 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مدھیہ پردیش کے باغی 22 کانگریس ارکان اسمبلی کے منجملہ 13 ارکان نے یہ تیقن دیا ہیکہ وہ کانگریس پارٹی نہیں چھوڑیں گے۔ پارٹی کے سینئر قائد ڈگ وجئے سنگھ نے یہ بات بتائی اور اس یقین کا اظہار کیا کہ کمل ناتھ کی زیرقیادت مدھیہ پردیش کی کانگریس حکومت فلور ٹسٹ میں کامیابی حاصل کرے گی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ ان حالات میں ہم خاموش نہیں اور نہ ہی ہم سو رہے ہیں۔ دوسری طرف ریاستی حکومت کے گرنے کے امکانات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ کوئی بھی یہ توقع نہیں کرسکتا کہ سابق مرکزی وزیر اور چار مرتبہ کے لوک سبھا رکن جیوتر ادتیہ سندھیا کانگریس پارٹی چھوڑدیں گے۔ یہ ایک غلطی ہے۔ سندھیا کو ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدہ کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے اپنے نامزد کو تقرر کرنے کی بات کی جس کو کمل ناتھ نے مسترد کردیا تھا کیونکہ وہ اس عہدہ پر کوئی ’’چیلہ‘‘ نہیں چاہتے تھے۔ چیف منسٹر کو جیوتر ادتیہ سندھیا کے ساتھ ڈپٹی چیف منسٹر بننے پر کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن کوئی چیلہ ڈپٹی چیف منسٹر نے یہ کمل ناتھکو منظور نہیں تھا۔ اس وقت کمل ناتھ نے سندھیا کے حامی چھ ارکان کو کابینہ میں شامل کیا تھا۔ ڈگ وجئے سنگھ نے یہ بتایا کہ سندھیا کے قریبی 2 تا 3 وزراء اور دیگر 10 باغی ارکان اسمبلی نے یہ تیقن دیا ہیکہ وہ کانگریس پارٹی نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ارکان کو اس لئے بنگلور لے جایا گیا تاکہ سندھیا کو راجیہ سبھا نشست دینے کیلئے کانگریس پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ کانگریس پارٹی ارکان اسمبلی کے خاندانوں سے رابطہ میں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس بحران کے پیچھے بی جے پی کا ہاتھ ہے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہیکہ کانگریس کے ارکان اسمبلی کو بنگلورو لے جانے کیلئے بی جے پی قائدین کی جانب سے بھی چارٹرڈ فلائٹس کا انتظام کیا گیا تھا اور انہیں دو بیاچس میں بنگلورو پہنچایا گیا ہے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ یہ پورا منصوبہ بی جے پی کا تیار کردہ ہے جس نے اسپانسر بھی کیا اور ساری ادائیگیاں بھی کی۔ باغی ارکان اسمبلی کے موبائیل فونس حاصل کرلئے گئے اور ارکان خاندان کے ساتھ ان کی بات چیت کو ریکارڈ کیا گیا۔ ڈگ وجئے سنگھ نے تاہم یہ اعتراف کیا کہ سندھیا کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے انہیں باآسانی راجیہ سبھا میں بھیجا جاسکتا تھا کیونکہ کانگریس کے پاس 122 ارکان اسمبلی تھے لیکن ہم انہیں کابینی وزیر نہیں بنا سکتے۔ صرف مودی اور شاہ ہی انہیں وزیر بنا سکتے ہیں۔ ڈگ وجئے سنگھ کا یہ ردعمل اس رپورٹ کے بعد آیا ہیکہ جیوتر ادتیہ سندھیا کو مودی حکومت میں کابینی وزیر بنایا جائے گا۔ ڈگ وجئے سنگھ نے اس عزم کا اظہار کیا ہیکہ کمل ناتھ حکومت اپنی اکثریت ثابت کرے گی اور ان کی حکومت برقرار رہے گی۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ سندھیا پارٹی اور ریاستی حکومت سے ناخوش تھے۔
