رسول کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ’’ مَنْ ردَّتْهُ الطِّيَرَةُ ، فَقَدْ قارفَ الشركَ‘‘ جو شخص بدشگونی کی بنا پراپنے کسی کام سے رک گیا،تو اس نے شرک کا ارتکاب کر لیا۔(السلسلۃ الصحیحۃ )
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ رَدَّتْهُ الطِّيَرَةُ مِنْ حَاجَةٍ فَقَدْ أَشْرَكَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللّٰهِ، مَا كَفَّارَةُ ذَلِكَ ؟ قَالَ:أَنْ يَّقُوْلَ أَحَدُهُمُ : اللّٰهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ، وَلَا طَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ، وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ۔
جو شخص بدشگونی کی بنا پر کسی کام سے رُک گیا،تو اُس نے شرک کا ارتکاب کر لیا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا ،اِس کا کفارہ کیا ہے ؟
آپﷺ نے فرمایا:اِس کا کفارہ یہ دعا ہے:
اَللّٰهُمَّ لَاخَيْرَ إِلَّا خَيْرُكَ، وَلَاطَيْرَ إِلَّا طَيْرُكَ، وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ۔
اے اللہ ! تیری بھلائی کے علاوہ کوئی بھلائی نہیں۔ اور تیرے شگون کے علاوہ کوئی شگون نہیں ۔ اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔(مسند أحمد)
بد شگونی کا عقیدہ تقریبا ہر دور سے چلتا آرہا ہے ، جیساکہ علامہ ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :بہت سے جاہل ماہِ صفر کو منحوس سمجھتے ہیں اور بسا اوقات وہ اس مہینے میں سفر کرنے سے رُکے رہتے ہیں اور ماہِ صفر کو منحوس سمجھنا اصل بد شگونی ہے جس سے منع کیا گیا ہے ۔
بد شگونی دو وجوہات کی بنا پرتوحید کے منافی ہے :۱۔ بد شگونی لینے والے نے اللہ پر توکل وبھروسہ توڑدیاا اور اللہ کے علاوہ کسی اور پر بھروسہ کرلیا۔ ۲۔ بد شگونی لینے والے نےکسی ایسی چیز سے تعلق جوڑا جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، بلکہ وہ ایک وہم اور خیال ہے۔