برسر اقتدار کانگریس اور اپوزیشن بی آر ایس کے درمیان لفظی تکرار

   

سیاسی طور پر ایک دوسرے کا خاتمہ اور طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش
حیدرآباد۔22جنوری(سیاست نیوز) ریاست میں برسراقتدار کانگریس اور اپوزیشن بھارت راشٹرسمیتی کے درمیان لفظی تکرار شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور دونوں ہی سیاسی جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے کو چیالنج کرنے کے علاوہ سیاسی طور پر ایک دوسرے کے خاتمہ اور طاقت کا مظاہر ہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے تلنگانہ میں اپوزیشن کو 100فیٹ کھود کردفن کردینے کا انتباہ دیا اور کہا کہ بی آر ایس کا کوئی سیاسی پتہ باقی نہیں رہے گا وہ حالت کردی جائے گی جبکہ بی آر ایس کے کارگذار صدرمسٹر کے ٹی راما راؤ نے برسراقتدار کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت راشٹرسمیتی 100 دن کے بعد کانگریس حکومت کو اس بات کا احساس دلائے گی کہ بھارت راشٹرسمیتی کیا ہے۔ کانگریس نے اقتدار حاصل کرنے سے قبل عوام سے وعدہ کیا تھا کہ اندرون 100 یوم حکومت اپنے 6 ضمانتوں کو قابل عمل بنائے گی اور بی آر ایس 100دن کی تکمیل کا انتظار کر رہی ہے۔ دونوں سیاسی جماعتوں کے قائدین کے بیان 100کے ہندسہ کے اردگرد گھوم رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ حکومت کے خلاف بھارت راشٹرسمیتی کی جانب سے 100 دن بعد بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ مجوزہ پارلیمانی انتخابات میں بھارت راشٹرسمیتی بہتر مظاہرہ کے لئے راست کانگریس کو نشانہ بنارہی ہے جبکہ کانگریس پارٹی یہ واضح کررہی ہے کہ انتخابات سے قبل عوام سے پارٹی نے جو وعدے کئے تھے ان کو پورا کیا جائے گا۔برسراقتدار کانگریس قائدین کا کہناہے کہ بھارت راشٹرسمیتی مجوزہ پارلیمانی انتخابات میں اپنی امکانی شکست سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے اور برسراقتدار جماعت پر تنقیدوں کے ذریعہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے میں مصروف ہے جبکہ بھارت راشٹرسمیتی قائدین کانگریس حکومت اور قائدین کو نشانہ بناتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے کانگریس حکومت محض تشہیر میں مصروف ہے اور بی آر ایس کی برائی کرتے ہوئے حکومت چلانے کی کوشش کر رہی ہے ۔بی آر ایس قائدین حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے وائٹ پیپر اور ریاست کی معاشی حالت پر تنقیدوں کے ذریعہ یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں حکومت محض سابقہ حکومت کے خلاف بیان بازی میں مصروف ہے جبکہ برسراقتدار جماعت کے قائدین کا کہناہے کہ ریاست تلنگانہ میں گذشتہ 10 برسوں کے دوران جس طرح کی آمرانہ حکومت چلائی گئی اور جو فیصلے کئے گئے ہیں وہ مخالف عوام ہیں اسی لئے اس کچہرے کی صفائی میں وقت لگ رہا ہے۔کانگریس کا کہناہے کہ اقتدار حاصل کرتے ہی کانگریس حکومت نے ریاست میں عوامی جمہوری حکمرانی کو بحال کرنے کے اقدامات کرتے ہوئے راست عوام سے رابطہ شروع کردیا ہے جس سے عوام کی تکالیف سامنے آنے لگی ہیں۔3