نزدیک اس جہاں سے جہانِ عدم نہیں
رستہ ہے عمر بھر کا قدم دو قدم نہیں
دنیا بھر میں کئی ممالک معاشی مشکلات کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ کئی ممالک ایسے ہیں جو دیوالیہ ہونے کے قریب پہونچ گئے ہیں۔ ہمارے ایک پڑوسی ملک سری لنکا نے تو باضابطہ دیوالیہ ہونے کا اعتراف کرلیا ہے ۔ ایک اور پڑوسی ملک پاکستان کی معاشی حالت بھی انتہائی ابتر ہے ۔ وہاں بھی مہنگائی کا عروج ہوتا جا رہا ہے ۔ عوام معمولی سی بنیادی ضروریات کی تکمیل میں بھی مسائل کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ کچھ اور ممالک کی معاشی حالت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ صورتحال صرف ایشیا یا جنوبی ایشیا تک محدود ہے ۔ یہ صورتحال یوروپ اور مغر بی ممالک میں بھی پیدا ہوتی جا رہی ہے ۔ دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں میںشمار کی جانے والی برطانوی معیشت بھی انتہائی غیر مستحکم ہوگئی ہے اور خود برطانیہ کے عوام اخراجات زندگی کے بوجھ سے دبتے جا رہے ہیں۔ عالمی درجہ بندی میں برطانیہ کی معیشت ایک درجہ کم ہوگئی ہے اور ہندوستان اب دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن گیا ہے جبکہ برطانیہ کی معیشت چھٹے نمبر پر چلی گئی ہے ۔ یہ خود برطانیہ کیلئے ایک مسئلہ ہے حالانکہ ابھی وہاں سیاسی عدم استحکام کی کیفیت ہے ۔ وزیراعظم بورس جانسن کے خلاف سیاسی بغاوت نے انہیں ایک طرح سے معزول کردیا ہے ۔ سابق خارجہ سکریٹری لز ٹروس ہوسکتا ہے کہ اس ہفتے برطانیہ کی وزیر اعظم بن جائیں۔ سیاسی ماحول سے قطع نظر جو معاشی صورتحال ہے اس نے برطانیہ کو بے ہنگم کیفیت کا شکار کردیا ہے ۔ برطانیہ کے عوام پر پہلی مرتبہ معاشی بوجھ محسوس کیا جا رہا ہے اور عوام اپنے اخراجات زندگی کو برداشت کرنے میںمشکلات محسوس کر رہے ہیں۔ خاص طور پر توانائی یا بجلی کے بلز مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں اور یہ دوگنے سے بھی زیادہ ہوگئے ہیں۔ کئی اشیا کی قیمتیں عام برطانوی شہریوں کی رسائی سے باہر ہوتی چلی گئی ہیں۔ فیول کی قیمتوںمیں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ ضروریات زندگی کی بیشتر اشیا کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں اور اس کا راست بوجھ عوام پر پڑتا جا رہا ہے۔ بورس جانسن کی حکومت نے اس معاملہ میں عوام کو بوجھ سے بچانے کیلئے زیادہ کچھ کیا نہیں ہے ۔
لز ٹروس جب وزیراعظم بنیں گی تو ان کا وعدہ ہے کہ وہ اندرون ایک ہفتہ عوام کو راحت دینے کیلئے حکومت کی جانب سے کچھ اقدامات کا اعلان کریں گی ۔ یہ اقدامات کیا ہونگے ان کا تو قبل از وقت اندازہ کرنا ممکن نہیں ہے لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ جو بوجھ برطانیہ کے عوام پر پڑتا جا رہا ہے اس کو زیادہ حد تک کم نہیں کیا جاسکے گا ۔ سب سے زیادہ برقی کے اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں اور جب برطانیہ میں موسم سرما ہوگا اور درجہ حرارت نقطہ انجماد تک پہونچ جائیگا تو ان اخراجات میں بھاری اضافہ ہوسکتا ہے ۔ پہلی مرتبہ برطانیہ کو شائد ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں برطانیہ میں لوڈ شیڈنگ کی صورتحال بھی پیدا ہوسکتی ہے ۔ کہا یہ جارہا ہے کہ یوکرین کی جانب کے نتیجہ میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ روس کے خلاف تحدیدات عائد کرتے ہوئے مغربی ممالک خود ایک طرح سے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ روس کو معاشی مشکلات کا شکار کرنے کی کوششوں میں مغربی ممالک کی اپنی معیشت متاثر ہونے لگی ہے ۔ گیس کی درآمدات کو روک دیا گیا ہے ۔ فیول بھی روس سے نہیں منگوایا جا رہا ہے اور دیگر ذرائع سے جو درآمدات ہو رہی ہیں ان کے نتیجہ میں اخراجات میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ عوام اپنے ماہانہ بلز کی وجہ سے پریشان ہیں اور انہیں کوئی راہ نظر نہیں آ رہی ہے جس کے ذریعہ وہ ان مسائل سے خود کو آزاد کرسکیں۔عوام کا سارا داار ومدار حکومت کے اقدامات پر دکھائی دیتا ہے اور حکومت فی الحال اس معاملہ میں زیادہ کچھ کرنے کے موقف میں نظر نہیں آ رہی ہے ۔ سیاسی عدم استحکام کی کیفیت سے بھی یہ صورتحال اور زیادہ مشکل ہوگئی ہے ۔
اب جبکہ جاریہ ہفتے برطانیہ میں نئے وزیر اعظم کا تقرر ہوگا تو ان کی یہ اولین ذمہ داری ہوگی کہ وہ عوام کو مالیاتی اور معاشی بوجھ سے بچانے کے اقدامات پر فوری توجہ کریں۔ عوام کو تقریبا ہر معاملہ میں راحت پہونچانے کیلئے کوششیں کی جائیں۔ بجلی کے اخراجات کو کم سے کم کرنے کیلئے کوئی اعلان کیا جائے ۔ مختلف شعبہ جات کے ملازمین جو تنخواہوں میںاضافہ کا مطالہ کر رہے ہیں ان پر غور کیا جائے ۔ غرض یہ کہ جو کچھ بھی معیشت کو مستحکم کرنے اور عوام کو بوجھ سے بچانے کیلئے ضروری ہو وہ اقدامات فوری کئے جائیں۔ اگر بریگزٹ کی وجہ سے مشکلات میں اضافہ ہوا ہو تو اس کے متبادل انتظامات پر بھی غور کیا جائے ۔
