مخالف کرنے والے 6 افراد گرفتار‘نائب صدر دھنکر نے ہندوستان کی نمائندگی کی
لندن :برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم اور ان کی اہلیہ ملکہ کنسورٹ کمیلا کی تاج پوشی کی تقریب ویسٹ منسٹرایبی میں منعقد ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔برطانیہ کے بادشاہ چارلس کو تاریخی کنگ ایڈورڈ تاج پہنا دیا گیا۔بادشاہ چارلس کی حلف برداری میں آرچ بشپ آف کینٹربری نیحلف لیا جس کے بعد بادشاہ چارلس نے حلف نامے پر دستخط کردیے۔برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے سینٹ ایڈورڈ چیئر سنبھال لی اور انہیں تاریخی کنگ ایڈورڈ تاج پہنا دیا گیا، آرچ بشپ نے بادشاہ چارلس کوکنگ ایڈورڈ تاج پہنایا۔شاہ چارلس کنگ ایڈورڈ تاج پہننے والے ساتویں شاہی سربراہ ہیں۔اس سے قبل برطانوی وزیراعظم رشی سونک نے استقبالیہ پیش کیا ۔ پاکستان کے وزیراعظم شہبازشریف تاج پوشی کی تقریب میں شریک تھے۔ نائب صدرجمہوریہ جگدیپ دھنکر نے ہندوستانی کی نمائندگی کی۔ اس کے علاوہ شاہی خاندان سمیت 2 ہزار200 مہمان اس شاندار تقریب میں شریک رہے۔گزشتہ 70 سال کے دوران ہونے والی تاج پوشی کی یہ پہلی تقریب ہے جس میں شرکت کیلئے پرنس ہیری بھی ویسٹ منسٹرایبی پہنچے ہیں۔اس کے علاوہ پرنس اینڈریو، پرنس ایڈورڈ، پرنسس یوجین، پرنسس این بھی ویسٹ منسٹرایبی تقریب میں شریک رہے۔بادشاہ چارلس14 نومبر1948کو پیداہوئے اور انہیں 1969 میں باقاعدہ طور پر پرنس آف ویلز بنایاگیا جبکہ بادشاہ چارلس نے فوجی خدمات بھی انجام دیں۔بادشاہ چارلس نے پہلی شادی 1981میں آنجہانی پرنسس آف ویلز ڈیانا سے کی اور پھر بادشاہ چارلس کمیلا پارکر کیساتھ2005 میں رشتہ ازدواج میں بندھے۔بادشاہ چارلس کے دوبیٹے شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری ہیں، بادشاہ چارلس کے بیٹے شہزادہ ولیم کو اب پرنس آف ویلز کا اعزاز عطا کردیا گیا ہے۔چارلس گزشتہ سال ستمبر میں ملکہ الزبتھ کے انتقال کے بعد بادشاہ بن گئے تھے۔ بادشاہ چارلس کی بیوی کیملا کی بھی مستقبل کی مہارانی کی حیثیت سے تاجپوشی کی گئی۔ پوری دنیا کی نظریں اس تقریب پر مرکوز تھیںکیونکہ 70 سال بعد برطانیہ میں تاجپوشی کی کوئی تقریب منعقد ہوئی۔ گزشتہ مرتبہ 1953 میں برطانیہ کی آنجہانی مہارانی ایلزبتھ کی تاجپوشی ہوئی تھی۔ تاجپوشی سے پہلے کنگ چارلس اور ان کے بڑے بیٹے پرنس ولیم اور ان کی بیوی کیٹ مڈلٹن بکنگھم پیلس کے نزدیک اپنے قریبی لوگوں اور خیر خواہوں سے ملاقات کی۔ تاجپوشی کی تقریب کی برطانیہ میں کچھ لوگ شدید مخالفت بھی کر رہے ہیں۔ دراصل کچھ لوگ شاہی خاندان سے ناراض ہیں اور تاجپوشی پر ہونے والے خرچ کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ لندن پولیس نے اس سلسلے میں 6 لوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تاجپوشی کی تقریب میں تقریباً ایک ہزار کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔بہرحال، کنگ چارلس سوم کی تاجپوشی تقریب میں تاجپوشی کرسی، تاجپوشی چمچ، سونے کا باز اور اسٹون آف ڈیسٹنی جیسی کئی چیزیں شامل ہیں۔ اس میں مزید ایک خاص چیز شامل ہے جسے تاجپوشی تیل یا پھر پاکیزہ تیل کہتے ہیں جس کا تاجپوشی کے دوران استعمال بھی اہم ہوتا ہے۔ میڈیا کے مطابق اس بار زیتون کے تیل سے اس پاکیزہ تیل کو تیار کیا گیا ہے۔ اس تیل کو بنانے کے لیے یروشلم کے میری میگڈالین کے مٹھ میں اْگائے جانے والے زیتون کا استعمال کیا گیا ہے۔