برطانیہ میں معاشی بحران اور مہنگائی،فوڈ بینک زندگیاں بچانے لگے

,

   

سینکڑوں افراد فوڈ بینک کے باہر کوپن کے ساتھ اپنی باری کے انتظار میں کھڑے دیکھے گئے، فوڈ بینکوں کی تعددا میں اضافہ

لندن: برطانیہ میں معاشی بحران کے باعث کھانے پینے کی اشیا مہنگی ہو گئی ہیں اور شہریوں کو فاقوں سے بچانے کیلئے فوڈ بینکوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے 51 سالہ برطانوی شہری مائیکل کاکس نے بتایا کہ میرے لئے یہ زندگی بچانے والے ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دو دن سے کچھ نہیں کھایا تھا اور پھر فوڈ بینک سے خوراک لینے کا فیصلہ کیا۔ مائیکل کاکس جنہوں نے حالیہ بحران سے قبل کبھی اپنے لئے کسی سے مدد نہیں لی تھی وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس رقم نہیں تھی، اس لئے فیصلہ کیا کہ یہاں چلتا ہوں۔مشرقی لندن کے شہر ہیکنی میں فوڈ بینک کے باہر کوپن ہاتھوں میں پکڑے سینکڑوں افراد اپنی باری کے انتظار میں کھڑے دیکھے جارہے ہیں۔یہ فوڈ بینکس ضرورت مند شہریوں کو خوراک کی ایک ٹوکری فراہم کرتے ہیں جس میں تین دن کیلئے کھانے پینے کی اشیا ہوتی ہیں۔ہر ضرورت مند کو اس کے خاندان کیلئے درکار اشیا دی جاتی ہیں اور اس کیلئے فنڈز شہری تنظمیں عطیات سے جمع کرتی ہیں۔برطانیہ میں خوراک اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں سے مہنگائی کا طوفان مچا ہے۔ ستمبر کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 10 فیصد تک پہنچی جو G-7 ملکوں میں سب سے زیادہ ہے جس سے پہلے ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان شہریوں پر مزید بوجھ بڑھا۔ فوڈ بینک کے سوپروائزر جوہن اکلنڈ نے بتایا کہ اب جبکہ روزمرہ کے اخراجات بڑھ گئے ہیں، لوگ خوراک خریدنے اور اپنے بلز ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ اُن کو کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ بدقسمتی سے ہم یہ رجحان بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ نرس سیدونی فلورے فیومبا جو حکومت سے امدادی رقم وصول کرتی ہے اس نے بتایا کہ وہ اپنے تین بچوں کی خوراک اور گھر میں ہیٹر چلانے کے اخراجات برداشت نہیں کر پا رہی ہے۔