برطانیہ میںخاتون پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث پاکستانی کو عمر قید

   

لندن:انگلینڈ میں خاتون پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث پاکستانی نژاد پیراں دتہ خان کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔میڈیاکے مطابق 75 سالہ پیراں دتہ خان نے 20 برس قبل اُس وقت انگلینڈ سے فرار ہو کر پاکستان آ گئے تھے جب ایک ڈکیتی کے دوران اُن کے ساتھی نے پولیس اہلکار شیرون بیشینوسکی کو قریب سے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔قتل کا یہ واقعہ شمالی انگلینڈ کے علاقے بریڈ فورڈ میں ایک ٹراویل ایجنسی میں پیش آیا تھا۔جمعہ کو لیڈز کراؤن کورٹ کے جج نکولس ہلیارڈ نے پیراں دتہ خان کو کم از کم 40 سال کی عمر قید کی سزا سنائی اور ان سے کہا کہ اب آپ اپنی باقی زندگی جیل میں گزاریں گے۔خاتون پولیس اہلکار شیرون بیشینوسکی اپنی موت سے پہلے صرف نو ماہ تک ویسٹ یارکشائر پولیس میں افسر رہ چکی تھی۔ موت کے وقت اُن کی عمر 38 برس تھی اور یہ واقعہ اُن کی بیٹی لیڈیا کی چوتھی سالگرہ پر ہوا تھا۔لیڈیا نے عدالت میں پڑھے گئے ایک جذباتی بیان میں کہا کہ ’اُن کیلئے ہر سالگرہ یہ یاد لے کر آتی ہے کہ اس دن کیا ہوا تھا۔ پیراں دتہ خان کو برسوں چھپے رہنے کے بعد جنوری 2020 میں اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا اور اپریل 2023 میں برطانوی پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔پیراں دتہ خان قتل کے ساتھ آتشیں اسلحے کے جرائم کا بھی مجرم پایا گیا تھا۔اس نے عدالت میں ڈکیتی کا اعتراف کیا تھا۔گینگ کے چھ دیگر ارکان کو اس سے قبل فائرنگ کے الزام میں جیل بھیجا جا چکا ہے، جنہوں نے بیشینوسکی کی ساتھی ٹریسا ملبرن کو بھی سینے میں گولی ماری تھی۔