حیدرآباد آنے والے 200 سے زائد مسافر لاپتہ، سی سی ایم بی میں نئے وائرس کا تجربہ
حیدرآباد: برطانیہ میں کورونا کی طرز پر منظر عام پر آنے والے تازہ وائرس سے بچنے کے لئے تلنگانہ حکومت نے غیر معمولی چوکسی اختیار کرلی ہے ۔ برطانیہ سے آنے والے افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے نمونے ٹسٹ کیلئے سی سی ایم بی روانہ کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ سی سی ایم بی میں 18 مسافرین کے سیمپلس کا ٹسٹ جاری ہے۔ ایسے میں مزید دو افراد میں کورونا پازیٹیو پایا گیا ۔ جانچ میں اس بات کا پتہ چلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ برطانیہ سے آنے والوں میں کورونا کے علاوہ نئے وائرس کی علامات تو موجود نہیں۔ نئے وائرس کے پائے جانے کی صورت میں مسافرین کو سخت آئسولیشن میں رکھا جاسکتا ہے۔ سی سی ایم بی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر مشرا نے بتایا کہ حکومت اور وزارت صحت کو جانچ رپورٹ کی تفصیلات روانہ کردی گئی ہے ۔ دوسرے مرحلہ کی جانچ کی رپورٹ جلد ہی روانہ کی جائے گی ۔ جانچ سے اس بات کا پتہ چلے گا کہ نیا وائرس کس حد تک مہلک ہے اور وہ کس طرح تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اتوار کے دن محکمہ صحت کے حکام نے برطانیہ سے آنے والے مزید 30 افراد کا پتہ چلاتے ہوئے ان کا ٹسٹ کیا۔ بتایا جاتاہے کہ 246 افراد کا پتہ چلانے میں حکام ناکام ہوچکے ہیں۔ ان میں سے اکثریت ایسے مسافرین کی ہے جنہوں نے اپنا فون نمبر اور ایڈریس غلط درج کرایا تھا ۔ برطانیہ سے آنے والے 20 مسافرین میں کورونا پازیٹیو پایا گیا ۔ 6 ڈسمبر سے اب تک تلنگانہ کو 1216 افراد برطانیہ سے واپس ہوئے۔ اسی دوران سائنسدانوں نے کہا ہے کہ برطانیہ میں پائے جانے والا وائرس اگرچہ تیزی سے پھیل سکتا ہے لیکن اموات کے اعتبار سے وہ زیادہ مہلک نہیں ہے۔
