لندن : پانچ سال قبل آج ہی کے دن برطانوی پارلیمان کا منظر عجیب تھا۔ ایک طرف برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی پر خوشی منائی جارہی تھی جبکہ دوسری طرف ’بریگزٹ‘ یعنی برطانیہ کے اس بلاک سے الگ ہونے پر ایک غم وغصہ نمایاں تھا۔ رات 11 بجے لندن کے وقت کے مطابق جب برسلز میں یورپی یونین کے ہیڈکوارٹرز میں نصف شب تھی، برطانیہ نے تقریباً پانچ دہائیوں کے بعد یورپی یونین کو باضابطہ طور پر چھوڑ دیا تھا۔ یہ رکنیت برطانیہ اور 27 دیگر یورپی ممالک کے درمیان آزاد تجارت اور آزاد نقل و حرکت کی ضامن تھی۔ بریگزٹ کے حامیوں کے لیے، برطانیہ یوں دوبارہ ’’خودمختار ملک‘‘ بن گیا، جو اپنے مستقبل کا تعین خود سے کر سکتا تھا جبکہ مخالفین کے نزدیک یہ ایک الگ تھلگ اور کمزور ہو چکے ایک ملک کا آغاز تھا۔ اسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق بریگزٹ کے حوالے سے برطانوی عوام کے درمیان تقسیم بھی بالکل واضح تھی، جو ایک نامعلوم سمت میں قدم بڑھا رہی تھی۔ پانچ سال بعد بھی عوام اور کاروباری ادارے، معاشی، سماجی اور ثقافتی جھٹکوں سے نبرد آزما ہیں۔