صحافتی برادری کو درپیش مسائل کی یکسوئی پر توجہ ، میٹ دی پریس سے جناب عامر علی خاں ایم ایل سی کا خطاب
حیدرآباد۔23اگست( سیاست نیوز) تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹ کی جانب سے منعقدہ تہنیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رکن قانون ساز کونسل ( ایم ایل سی ) جناب عامر علی خان نے کہاکہ پہلی مرتبہ صحافت کو قیادت کا موقع ملا ہے اور صحافتی برادری کے مسائل کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائیگی ۔انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کئی سالوں سے مسائل درپیش ہیں اورپچھلے دس سالوں میں ان مسائل میںاضافہ ہوا ہے جس کو حل کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ میںیقین دلاتاہوں کہ جو کچھ ہوسکے مجھ سے وہ میںاپنی صحافتی برداری کے لئے کروں گا۔تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹ کے صدر وراحت علی کی بات کا جواب دیتے ہوئے جنا ب عامر علی خان نے کہاکہ سیاست میںیقینا بہت سارے سینئر صحافی موجود ہیں اس کی وجہہ سے انتظامیہ اور عملے کے درمیان بہتر تال میل ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بچپن سے مجھے یہی سیکھا یاگیا ہے اور میںنے دیکھا بھی یہی ہے کہ ادارے سیاست کی بنیادیں سیکولرزم کی بقاء اور استحکام پر قائم ہیں اور میںبھی اسی کو آگے بڑھانے کاکام کروں گا۔ کسی تفریق کے بغیر پریشان حال لوگوں کی مدد میرا نصب العین تھا اور آگے بھی رہے گا۔بحیثیت صحافی میں نے سکیولرزم ‘ انسانی حقوق ‘ جمہوری حقوق کی بقاء کے لئے کام کیاہے اور اب بحیثیت ایک عوامی لیڈر میں اسی کو آگے لے کر جائوں گا۔ میں شکریہ ادا کرتاہوں تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹ (ٹی یو ڈبلیو جے) کا جس نے ایک صحافی کے عوامی لیڈر نامزد ہونے پر یہ تقریب منعقد کی او رمجھے تہنیت پیش کی ہے۔ اس موقع پرانہوں نے مستقبل میںاپنے ہر ممکن تعاون کا یقین بھی یونین کو دلایا۔صدر تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹ (ڈی ڈبلیو یو جے ) وراحت علی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اُردو صحافت کے ایک ایڈیٹر کا قانون ساز کونسل میں قدم رکھنا خوشی کی بات ہے ۔ انہوں نے اُردو کو تلنگانہ کی زبان قراردیتے ہوئے کہاکہ اُردو صحافت کے لئے ریاست میںاب ایک نئے دور کی شروعات ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ عامر علی خان صاحب کا انتخاب حکومت تلنگانہ کی جانب سے اُردو صحافت کا احترام بھی سمجھا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ صرف ایم ایل سی ہی نہیںبلکہ تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹ کی یہ بھی خواہش او رمانگ ہے کہ عامر علی خان کو جلد سے جلد کابینی وزیر بھی بنادیاجائے ۔ انہوں نے ڈپٹی چیف منسٹر‘ اقلیتی بہبود کی وزرات کے علاوہ آئی اینڈ پی آر کی وزرات تفویض کرنے کی توقعات کا بھی اظہار کیا۔ وراحت علی نے کہاکہ ہم اس امیدمیں ہیں کہ وزیر بننے کے بعد ہمیں اسی بھون میں انہیں دوبارہ تہنیت پیش کرنے کا موقع ملے گا ۔ انہوں نے کہاکہ سیاست میںبہت سارے لوگوں کا داخلہ ہورہا ہے کونسل میںبھی لوگ شامل ہورہے ہیں مگر ان کی تعلیمی قابلیت پر ہمیںتبصرہ نہیں کرنا لیکن ایک رکن اسمبلی اور رکن قانون ساز کونسل میں جو صلاحتیں ہونا چاہئے وہ ساری صلاحتیں عامر علی خان صاحب میںموجود ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ادارہ سیاست کوئی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔ سینئر صحافیوں کی ادارے میں موجودگی ادارے اور عملے کے درمیان بہترین تال میل کی ایک نشانی ہے ۔ انہوں نے ادارہ سیاست کا ایک تاریخی اخبار اور عامر علی خان صاحب کے خاندان کو ایک تاریخی خاندان بھی قراردیا ۔رکن پریس کونسل آف انڈیا اور سینئر صحافی ایم اے ماجد نے بانی سیاست جناب عابد علی خان صاحب مرحوم کو بھرپور خراج پیش کیا او رکہاکہ اے پی یونین آف ورکنگ جرنلسٹ ہویا پھر تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹ ہو جناب عابد علی خان کی مرہون منت ہے ۔انہوں نے کہاکہ پریس اکیڈیمی جو اب میڈیا اکیڈیمی ہوگیا ہے اس کا قیام جناب عابد علی خان مرحوم کی رپورٹ پر عمل میں آیا ہے۔انہوںنے کہاکہ ورکنگ صحافیوں کی اب انتظامیہ سے نہیںبلکہ حکومتوں سے مانگ ہے ۔ مختلف ریاستوں میں صحافیوں کے لئے نارمس بنائے گئے ہیں ۔ تلنگانہ ایک واحد ریاست ہے جہاں پر 24ہزار ایکریڈیشن کارڈس جاری ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کونسل کے رکن منتخب ہونے کے بعد صحافتی برداری کو جناب عامر علی خان سے کافی امیدیں وابستہ ہیں۔ سکریٹری یونین پربھاکر ریڈی نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب عامر علی خان کو مبارکباد پیش کی ۔ حیدرآباد یونین آف ورکنگ جرنلسٹ کے صدر شنکر‘ چھوٹے اخبارات کی صحافی اسوسیشن کے صدر یوسف بابا نے بھی خطاب کے ذریعہ جناب عامر علی خان کو مبارکباد پیش کی ۔