نیویارک: ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو فنڈنگ کرنے والے لبنانی نژاد بلجیم کے شہری محمد بازی کو امریکی عدالت سے سزا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ ان کو امریکی عدالت میں امریکہ کی طرف سے منی لانڈرنگ کے الزام اور امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام کا سامنا ہے۔بروکلین میں فیڈرل پروسکیوٹرز کی طرف سے عدالت سے جمعرات کے روز استدعا کی گئی ہے کہ ساٹھ سالہ محمد بازی اپنے عدالت میں اختیار کردہ موقف کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ محمد بازی کا موقف ہے کہ اس نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔حتی کہ اس نے کسی پابندیاں لگی تنظیم کو رقوم بھی منتقل نہیں کی ہیں۔ تاہم ان کے وکیل نے اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ کرنے سے منع کیا ہے۔امریکہ کی طرف محمد بازی پر 2018 میں پابندیاں لگائی گئی تھیں کہ ان کے ایک دہشت گرد حزب اللہ تنظیم کے ساتھ کاروباری تعلقات تھے۔علاوہ ازیں یہ الزام ہے کہ اپنا نام پابندیوں کی زد میں آنے کے بعد انہوں نے مشی گن میں اپنی جائیداد فروخت کی اور رقم لانڈرنگ کیلئے باہر لے گئے۔محمد بازی کو اپریل 2023 میں رومانیہ سے امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ جہاں انہیں دو ماہ پہلے باضابطہ گرفتار کیا گیا ہے۔ اب ان کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے۔ جس کی ستمبر کے اواخر میں سماعت ہو گی۔
ادھر رات اور صبح سویرے غزہ پر اسرائیل کے تازہ حملوں میں 21 فلسطینی شہید کردیے گئے جب کہ ایک حملہ کمال عدوان اسپتال کے نزدیک کیا گیا۔واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 40 ہزار 800 سے زائد فلسطینی اور 94 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے ۔