سروے میں اکثریت نے کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا، بی جے پی کے تائیدی افراد بھی بلڈوزر کے خلاف
’سی ووٹر‘ کا سروے، 56 فیصد عوام یوگی
حکومت کی کارروائیوں کے مخالف
حیدرآباد 16 جون (سیاست نیوز) اترپردیش میں مسلم اقلیت کے احتجاجیوں کے خلاف یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی بلڈوزر کارروائیوں کے خلاف ملک بھر میں ناراضگی بڑھتی جارہی ہے۔ سیول سوسائٹی کے علاوہ ریٹائرڈ سپریم کورٹ و ہائی کورٹ ججس نے اترپردیش حکومت کی کارروائیوں پر روک لگانے کے لئے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس این وی رمنا کو مکتوب روانہ کیا۔ یوگی حکومت کی مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں پر عوامی رائے جاننے کے لئے خانگی ادارہ سی ووٹر نے سروے کا اہتمام کیا جس میں عوام کی اکثریت نے بلڈوزر کارروائیوں کی مخالفت کرتے ہوئے اِسے فوری روک دینے کی مانگ کی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ جو عوام میں ’’بلڈوزر بابا‘‘ کے نام سے مشہور ہوچکے ہیں، اُنھوں نے اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی مخالفین کے خلاف بلڈوزر کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ا بتداء میں عوام کی جانب سے کارروائیوں کی تائید کی گئی لیکن گزشتہ دنوں شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی نے عوام کو یوگی حکومت سے بدظن کردیا ہے۔ سی ووٹر کا سروے ملک بھر میں کیا گیا جس میں بلالحاظ مذہب و ملت عوام نے حصہ لیا۔ سروے رپورٹس سے ثابت ہوتا ہے کہ اکثریتی طبقہ بھی مسلمانوں کے خلاف مخصوص کارروائیوں کے حق میں نہیں ہے۔ سروے کا اہتمام 14 جون کو کیا گیا جس میں عوام کی اکثریت نے بلڈوزر کارروائیوں کو روکنے کی مانگ کی ہے۔ سروے میں سوال کیا گیا تھا کہ فسادات اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کے مکانات اور املاک کے خلاف بلڈوزر ایکشن کو کیا روکنا چاہئے؟ 56 فیصد سے زائد افراد نے کارروائیوں کو روکنے کے حق میں اپنی رائے دی جبکہ 44 فیصد نے بلڈوزر کارروائی کی تائید کی۔ سروے رپورٹ کے مطابق اپوزیشن کے تائیدی 62 فیصد عوام نے کارروائیوں کی مخالفت کی جوکہ فطری ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ رہی کہ بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کی تائید کرنے والے 48 فیصد افراد نے بھی کارروائیوں کو غلط قرار دیا۔ عوام کا احساس تھا کہ اترپردیش حکومت غیرقانونی طریقہ سے انہدامی کارروائیاں کررہی ہے اور اِس سلسلہ میں عدالتوں سے کوئی منظوری حاصل نہیں کی گئی۔ یوگی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ انہدامی کارروائی سے قبل 3 اور 10 جون کو ہوئے واقعات کے سلسلہ میں نوٹس جاری کی گئی ہے۔ 18 اور 24 سال عمر کے 65 فیصد افراد نے انہدامی کارروائی روکنے کے حق میں اپنی رائے دی۔ جبکہ 55 سال سے زائد عمر کے 41 فیصد افراد نے کارروائیوں کی مخالفت کی۔ اترپردیش کے علاوہ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں بلڈوزر کارروائیوں نے عوامی ناراضگی میں اضافہ کردیا ہے۔ مدھیہ پردیش اور آسام میں اِس طرح کے تجربات کئے گئے۔ ر