بلڈوزر کی سیاست

   

Ferty9 Clinic

ٹکرا گیا تم سے دل ہی تو ہے
روئے نہ یہ کیوں گھائل ہی تو ہے
انتہائی غیر شائستہ اور متنازعہ ریمارکس کیلئے مشہور چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ نے ایک بار پھر اپنے مخالفین بلکہ خود اترپردیش کے عوام کو خوفزدہ کرنے اور انہیں دھمکانے کی کوشش کی ہے ۔ بی جے پی کے تلنگانہ کے رکن اسمبلی کی جانب سے بلڈوزر سے ان افراد کے مکانات ڈھا دینے کی دھمکی کے بعد جو بی جے پی یا یوگی کو ووٹ نہیں دینگے اب خود چیف منسٹر اترپردیش نے بھی انتباہ دیا ہے کہ انہوں نے اپنے بلڈوزروں کو مرمت کیلئے بھیج دیا ہے اور یہ 10 مارچ کے بعد کام کرنا شروع کردینگے ۔ اس طرح انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین بلکہ خود اترپردیش کے رائے دہندوں کو دھمکانے کی کوشش کی ہے ۔ ویسے تو آدتیہ ناتھ مسلسل متنازعہ بیان بازی اور غیر شائستہ لب و لہجہ کیلئے شہرت رکھتے ہیں لیکن اب وہ خود ریاست کے ووٹرس کو بھی دھمکانے پر اتر آئے ہیں ۔ اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کا عمل پوری شدت کے ساتھ چل رہا ہے ۔ تمام جماعتیں اپنے اپنے طور پر رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔ قطعی نتائج کیا ہونگے یہ تو 10 مارچ کو رائے شماری کے دن ہی پتہ چلے گا تاہم جو قیاس کئے جا رہے ہیں ان کے مطابق ابتدائی دو مراحل میں بی جے پی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور تیسرے مرحلے میں بھی بی جے پی کے امکانات بہتر ہوتے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ایسے میں بی جے پی اور اس کے تمام سطح کے قائدین کی جانب سے فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے علاوہ ڈر و خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوششیں بھی تیز ہوگئی ہیں۔ بی جے پی کے ایک امیدوار کہتے ہیں کہ اگر وہ منتخب ہوجاتے ہیں تو مسلمان تلک لگانے پر مجبور کردئے جائیں گے ۔ا یک اور رکن اسمبلی کہتے ہیں کہ ہندوستان میں رہنا ہے تو رادھے رادھے کہنا ہوگا جبکہ ایک رکن اسمبلی کو عوام سے شکایت ہے کہ انہوں نے حکومت کا راشن لے لیا ‘ نمک لے لیا اور پیسہ لے لیا لیکن وہ بی جے پی کو ووٹ نہیں دے رہے ہیں۔ اس صورتحال میں بی جے پی اور اس کے قائدین بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں اور ایسے بیانات دینے لگے ہیں۔ یہ بیان بازیاں ان کی سیاسی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتی ہیں۔
گذشتہ پانچ سال میں جب آدتیہ ناتھ ریاست کے چیف منسٹر رہے سارے ملک نے دیکھا کہ کس طرح سے مخالفین کی زبانیں بند کرنے اور مخالفانہ آوازوں کو کچلنے کیلئے حکومت نے مختلف ہتھکنڈے اختیار کئے تھے ۔ ذرا سی مخالفت پر بھی مقدمات دائر کردئے گئے ۔ انکاؤنٹر کے نام پر کچھ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف غداری کے مقدمات درج کردئے گئے ۔ احتجاجیوں کی جائیدادیں اور املاک قرق کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ان پر لاکھوں روپئے کے جرمانے عائد کئے گئے ۔ آخر میں سپریم کورٹ کو مداخلت کرتے ہوئے حکومت کو ایسی حرکتوں سے باز رہنے کی ہدایت دینی پڑی ۔ جو نوٹسیں مخالف سی اے اے احتجاجیوں کو جاری کی گئی تھیں ان سے حکومت کو دستبرداری اختیار کرنی پڑی اور عدالت نے ہدایت دی کہ جو جرمانے وصول کئے گئے تھے ان کی رقومات عوام کو واپس کی جائیں۔ ریاست میں خوف کا ماحول پیدا کرتے ہوئے صحافیوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور انہیں بھی غداری اور قوم دشمنی کے الزامات کے تحت مقدمات درج کرتے ہوئے جیل بھیج دیا گیا ۔ انتقامی سیاست کی بدترین مثال قائم کرتے ہوئے سابق ریاستی وزیر و رکن پارلیمنٹ محمد اعظم خان کے خلاف سینکڑوں مقدمات درج کئے گئے اور انہیں دو سال سے زیادہ عرصہ سے جیل میںقید رکھا گیا ہے ۔ انہیں ایسے مقدمات میں ماخوذ کیا گیا جن کا واحد مقصد صرف ان کی ہتک کرنا اور تذلیل کرنا تھا ۔یہ انتقامی سیاست کی بدترین مثال ہے ۔
ایسی مثالیں قائم کرنے کے بعد اب بھی حکومت کو اپنی غلطیوں کا احساس نہیںہو پا رہا ہے ۔ حالانکہ کئی مواقع پر عدالتوں نے ریاستی حکومت کی سرزنش کی ہے ۔ اس کے باوجود آمرانہ روش کو بدلا نہیں کیا گیا ہے اور مزید دھمکیاںدیتے ہوئے ماحول کو بگاڑنے اور رائے دہندوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسی کوشش خود ریاست کے چیف منسٹر کر رہے ہیں جو ایک دستوری عہدہ پر فائز ہیں۔ بی جے پی یا اس کے قائدین کو ایسی حرکتوں کو باز آجانے کی ضرورت ہے ۔ انہیں یہ نہیںسمجھنا چاہئے کہ ان کا اقتدار دائمی ہے ۔ سیاست میں وقت بدلتے دیر نہیں لگتی ۔ الیکشن کمیشن کو بھی ایسے بیانات کا نوٹ لیتے ہوئے سخت کارروائی کرنی چاہئے تاکہ خود کمیشن کی غیر جانبداری پر اٹھنے والے سوالات اور شبہات کا ازالہ ہوسکے اور خوف کا ماحول پیدا ہونے نہ پائے ۔
نتیش کمار ‘ متبادل راہوں کی تلاش ؟
بہار کے چیف منسٹر نتیش کمار ایسا لگتا ہے کہ این ڈی اے میں قیدی بن کر رہ گئے ہیں۔ چونکہ ان کی پارٹی اسمبلی انتخابات میں تیسرے نمبر پر پہونچ گئی تھی اور ان کی کرسی محض بی جے پی کے رحم و کرم پر ہے اور یہ اندیشے ہیں کہ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کے بعد بہار میں بی جے پی نتیش کمار کا بھی تختہ الٹ سکتی ہے ایسے میں کہا جا رہا ہے کہ نتیش کمار نے متبادل سیاسی راہیں تلاش کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ نتیش کمار نے جمعہ کو دہلی میں سیاسی تجزیہ نگار و حکمت عملی کے ماہر پرشانت کشور سے ملاقات کی ۔ یہ ملاقات دو گھنٹوں کی رہی ۔ نتیش کمار نے پرشانت کشور کو پارٹی نائب صدر کا عہدہ دیا تھا تاہم اختلافات کے بعد ان میں دوریاں ہوگئی تھیں ۔ ایسے میں اچانک ہی نتیش کمار اور پرشانت کشور کی دوبارہ ملاقات سے کچھ شبہات تقویت پانے لگے ہیں ۔ کہا جاسکتا ہے کہ نتیش کمار کو اپنے مستقبل کے تعلق سے اندیشے لاحق ہوگئے ہیں اور وہ قبل از وقت سرگرم ہوگئے ہیں اور بی جے پی کو اپنے عزائم کے تعلق سے اشارے دینے لگے ہیں۔ دیکھنا ہے یو پی انتخابات کے بعد صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے ۔