جوتے ، ملبوسات ،بیاگس ،نمی اور رطوبت سے بُوجھ کا شکار، متعدد تجارت کو نقصانات کا امکان
حیدرآباد۔13 مئی(سیاست نیوز) لاک ڈاؤن کے دوران شہر کے بند تجارتی علاقوں کے علاوہ مالس اور بازاروں میں چوہوں کا قہر جاری ہے اور کہا جا رہاہے کہ لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد چوہوں کے خاتمہ کیلئے بھی ایک طویل مہم چلانی پڑسکتی ہے کیونکہ شہر حیدرآباد کے بیشتر بازار بند ہیں اور بند کے دوران دکانوں میں چوہوں کے علاوہ دیگر کئی مسائل پیدا ہونے کے خدشات میں بتدریج اضافہ ہوتا جار ہاہے کیونکہ شہر میں ہوٹلوں اور اشیائے خورد و نوش کے مراکز بند ہونے کے سبب چوہوں اور گھونسوں کو ان کی غذاء نہیں مل پارہی ہے اور وہ اپنی غذاء کی تلاش میں بازاروں کا رخ کررہے ہیں جہاں سناٹا ہے۔ کپڑے کے تاجرین کا کہناہے کہ ان کے پاس بعض کپڑے ایسے ہوتے ہیں جن پر کلف ہوتا ہے اور اس سے اجناس جیسی ہی مہک آتی ہے اسی لئے اب چوہوں اور گھونسوں کی جانب سے کپڑے کی دکانوں کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے خاتمہ تک انہیں تجارتی اشیاء کے نقصان بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ لاک ڈاؤن کے دوران شاپنگ مالس میں موجود اشیاء کو بھی سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ شاپنگ مالس میں کئی اشیاء ایسی ہوتی ہیں جو سنٹر ائیر کنڈیشن کے سبب محفوظ ہوتی ہیں اور رطوبت کا ان اشیاء پر اثر نہیں ہوتا لیکن جب ائیر کنڈیشن طویل مدت کے لئے بند کردیئے جاتے ہیں تو اس سے پیدا ہونے والی رطوبت اور اس کے منفی اثرات کئی اشیاء بالخصوص چمڑے کی تیار کردہ اشیاء اور ایسے کپڑے جو کہ سینتھیٹک مٹیریل سے تیار کئے جاتے ہیں
وہ خراب ہونے لگتے ہیں۔ جوتوں کی دکانات کو بھی لاک ڈاؤن کے سبب کاروبار نہ ہونے کے علاوہ کروڑہا روپئے کے اسٹاک کے نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ موسم گرما کے دوران جوتوں کو جوڑے رکھنے والا گوند انہیں چھوڑنے لگتا ہے اور مسلسل گرم ماحول میں رہنے کے سبب لیدر کے علاوہ دیگر اشیاء سے تیار کئے گئے جوتے اور چپلوں کو بھی نقصان کا خدشہ ہے ۔ لاک ڈاؤن کے دوران شہر حیدرآباد ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے تمام شہروں میں جہاں تجارتی سرگرمیاں اور مصروفیات بالکل بند ہیں ان کے احیاء کے ساتھ ہی کئی ایک نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ان مسائل سے نمٹنے کیلئے بھی وسیع تر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور اگر ایسا نہیںکیا جاتا ہے تو جو صورتحال پیدا ہوگی اس میں حالات مزید سنگین ہوسکتے ہیں اور تجارتی سرگرمیوں کے فوری احیاء کے کوئی امکانات باقی نہیں رہیں گے ۔ حکومت کو لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کے احیاء کے سلسلہ میں غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ احیاء کے ساتھ ہی تاجرین کو لاکھوں کروڑ کے نقصانات کا خدشہ ہے۔