پروگراموں کی اجازت کی درخواست ، وقف گزٹ 1964 کے اعتبار سے وقف اراضی کا ثبوت موجود
بنگلورو: کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں عیدگاہ میدان پر مختلف پروگراموںکی اجازت کیلئے ہندو تنظیموں کی درخواست نے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ کرناٹک وقف بورڈ کے مطابق عیدگاہ میدان کی اراضی وقف ہے اور کسی اور تنظیم کو پروگراموں کے انعقاد کی اجازت دی جاسکتی۔ سری رام سینا اور ہندو سنگھٹن پریشد اور دوسری تنظیموں نے عیدگاہ میدان میں پروگرام کی اجازت کے لئے بنگلور میونسپل کارپوریشن میں درخواست داخل کی ہے ۔ بلدی حکام نے اس معاملہ میں قانونی رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہندو تنظیمیں چامراج پیٹ میں واقع عیدگاہ میدان پر بین الاقوامی یوگا ڈے ، یوم آزادی اور آزادی کا امرت مہا اتسو منانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ میدان میونسپل کارپوریشن کی اراضی ہے۔ بلدی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق اراضی کارپوریشن کے تحت ہے جو پلے گراؤنڈ کے طور پر استعمال کی جاتی ہے ۔ کرناٹک وقف بورڈ نے سپریم کورٹ کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے اراضی پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کیا ہے۔ 9221.7 مربع میٹر اراضی پر تنازعہ چل رہا ہے۔ وقف بورڈ نے بلدی حکام کو سپریم کورٹ کے احکامات اور دیگر دستاویزات حوالے کئے جن کا قانونی ماہرین کے ذریعہ جائزہ لیا جارہا ہے ۔ بلدی حکام نے اپنی لیگل ٹیم کو یہ دستاویزات روانہ کئے ہیں۔ ان کی رائے ملنے کے بعد ہی عیدگاہ گراؤنڈ میں مختلف پروگراموں کی اجازت سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ بنگلور مہا نگر پالیکا کے چیف کمشنر نے کہا کہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے لیگل ٹیم فیصلہ کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ بلدی حکام سرکاری اراضی کا دعویٰ کرتے ہوئے ہندو تنظیموں کو اجازت دینے کے حق میں ہے۔ 1964 ء میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق یہ اراضی عیدگاہ کی ہے۔ سنٹرل مسلم اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر ظہیرالدین احمد نے بنگلور مہا نگر پالیکا کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا کہ عیدگاہ کی اراضی وقف نوٹیفائیڈ ہے اور7 جون 1965 کو گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا ۔ کرناٹک وقف بورڈ کی دعویداری اور سپریم کورٹ کے احکامات کے بارے میں بلدیہ کی لیگل ٹیم کے جواب کا انتظار ہے۔ اگر عیدگاہ کی وقف اراضی پر دیگر مذاہب کے پروگراموں کی اجازت دی گئی تو عیدگاہ کا تقدس پامال ہوسکتا ہے ۔ واضح رہے کہ کرناٹک میں ہندو تنظیموں نے کئی مساجد پر اپنی دعویداری پیش کی ہے۔