بنگلورو موسلادھار بارش سے دوبارہ متاثر،عام زندگی مفلوج

   


اہم سڑکیں زیرآب،کشتیوں اور ٹریکٹرز کی مدد سے عوام کی منتقلی

بنگلورو: اندرون ایک ہفتہ ملک کا اہم آئی ٹی ہب،باغوں کا شہر اور ریاست کرناٹک کا دارالحکومت بنگلورو آج ہونے والی شدید اور موسلادھا بارش کے باعث دوبارہ جھیلوں کے شہر میں تبدیل ہوگیا۔یاد رہے کہ 30 اگست کو بھی شدید بارش کے باعث بنگلورو پانی پانی ہوگیاتھا۔اور آؤٹر رنگ روڑ مکمل جھیل میں تبدیل ہوگئی تھی۔30 اگست کو ہونے والی بارش کیبعد رپورٹس میں بتایاگیا تھا کہ بنگلورومیں آئی ٹی کمپنیوں کو 255 کروڑ روپئے کانقصان ہواتھا۔ان کمپنیوں کا عملہ پانچ گھنٹے سے زائد وقت تک دفاتر میں پھنسا ہوا تھا۔زیادہ تر آئی ٹی کمپنیوں کیدفاتر اور گودام اسی آؤٹر رنگ روڈ پر موجود ہیں۔بنگلورو میں آج دوبارہ پیر کے دن بھی شدید اور موسلا دھار بارش کاسلسلہ ہنوزجاری ہیاور شہر کی کئی جھیلیں،تالاب اور ڈرین ابل پڑے ہیں۔جس کے باعث معمول کی زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔شاہراہوں اور آؤٹر رنگ روڈ سمیت کئی علاقے زیر آب آگئے ہیں کئی مصروف اور اہم سڑکوں پر پانی بھر جانے سے ٹریفک نظام مفلوج ہوگیا ہے۔جبکہ سیلاب زدہ چندعلاقوں سیعوام کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لییکشتیوں اور ٹریکٹروں کا استعمال کیا جارہا ہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق سڑکوں پرپانی جمع ہوجانے کی وجہ سیبنگلورو کے عوام نے چند علاقوں میں آج صبح کے وقت بھی طلباء￿ اور دفتر جانے والوں کو لے جانے کے لیے ٹریکٹر اور کشتیوں کا استعمال کیا گیا۔دوسری جانب کرناٹک کیمحکمہ موسمیات کے مطابق اتوار کی صبح 8.30 بجے سے پیر کی صبح 8.30 بجے کے درمیان مانڈیاضلع کیمالاولی تعلقہ کے ڈی کے ہلی میں سب سے زیادہ یعنی 188 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔جبکہ جنوبی بنگلوروکے تاورکیریتعلقہ اور بنگلورو ضلع میں175 ملی میٹر بارش میں ریکارڈ کی گئی ہے۔چیف منسٹر کرناٹک بسواراج بومائی نے میڈیا نمائندوں سیبات کرتے ہوئے کہاہے کہ بنگلورو میں شدید بارش ہوئی ہے۔اور انہوں نے کمشنربروہٹ بنگلورو مہانگراپالیکا(بی بی ایم پی) کے اور دیگر متعلقہ عہدیداروں سیبات کرتے ہوئیحالات سے واقفیت حاصل کی ہے۔چیف منسٹر نے کہا کہ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ SDRF کی دو ٹیمیں شہر کے مہادیو پورہ اور بومنہلی زونس میں کشتیاں دیگر اشیاء￿ اورانجینئرز کے ساتھ روانہ کریں جوکہ سب سے زیادہ بارش سے متاثر ہوئے ہیں۔چیف منسٹر کرناٹک نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ سڑکوں اور نشیبی علاقوں سے سیلابی پانی کے جلد اخراج کویقینی بنایا جائے۔چیف منسٹر کرناٹک بسواراج بومائی نے میڈیا کو بتایا کہ کل اتوار کو ہونیوالی شدید بارش کی وجہ سے ٹی کے ہلی میں موجود بنگلورو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ (BWSSB) میں جوکہ بنگلوروشہر کو کاویری ندی کیپانی کی سپلائی کا انتظام کرتا ہے،سیلاب کی زد میں آ گیا ہے اور وہاں کی مشینری کو نقصان پہنچا ہے۔اور وہ اس کا معائنہ کرنے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ پہلے ہی سے BWSSB کیچیئرمین،انجینئرز، اربن ڈیولپمنٹ سکریٹری اور دیگرعہدیدار وہاں موجود ہیں۔تیکنیکی اور ہنگامی طریقہ سے پانی کی نکاسی کاکام جاری ہے۔امکان ہیکہ شام تک حالات قابو میں آجائیں گے۔ تاہم بنگلورو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے پیر اور منگل کو بنگلورو کے کئی علاقوں میں پانی کی سپلائی میں خلل کا انتباہ دیا ہے۔