بی جے پی حکمرانی والے کرناٹک میں لیجسلیٹرز عملاً محروس ۔سپریم کورٹ میں چوہان کی عرضی پر کمل ناتھ حکومت کو ایک یوم کا وقت
بھوپال ؍ نئی دہلی ۔17مارچ ۔(سیاست ڈاٹ کام) مدھیہ پردیش میں کانگریس اور اپوزیشن بی جے پی کے درمیان سیاسی کشاکش کے دوران ایک ریاستی وزیر نے آج کہاکہ برسراقتدار پارٹی کے باغی ایم ایل ایز کو بی جے پی نے بنگلورو میں یرغمال بنا رکھا ہے اور اُنھیں مصنوعی طریقوں سے نیند کے غلبے میں رکھتے ہوئے پہلے سے تیار شدہ اسکرپٹس پڑھنے پر مجبور کیا جارہا ہے ۔ وزیر تعلقات عامہ پی سی شرما کا بیان چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جبکہ کانگریس کے 22 باغی ایم ایل ایز نے بنگلورو میں پریس کانفرنس منعقد کی، جہاں وہ کم از کم 9 دنوں سے روکے رکھے گئے ہیں ۔ یہ عوام کے درمیان اُن کا پہلا رابطہ رہا ۔ ان ایم ایل ایز نے 10 مارچ کو مستعفی ہوکر کمل ناتھ حکومت کو زوال کے دہانے تک پہونچادیا تھا ۔ دریں اثناء سپریم کورٹ نے کمل ناتھ حکومت کو چہارشنبہ تک اُس عرضی پر اپنا جواب داخل کرنے کیلئے کہا ہے جو سابق چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے اسمبلی میں عاجلانہ فلور ٹسٹ منعقد کرنے کی ہدایت چاہتے ہوئے داخل کی ہے ۔ جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی سربراہی والی بنچ نے آج کہاکہ وہ ریاستی حکومت اور دیگر بشمول قانون ساز اسمبلی کے سکریٹری کو نوٹس جاری کرے گی کہ کل صبح 7:30 بجے تک اپنا جواب دیں ۔ چوہان اور 9 دیگر بی جے پی لیجسلیٹرس بشمول ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر گزشتہ روز سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے تھے جبکہ اسپیکر این پراجا پتی نے کورونا وائرس کے تعلق سے تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے ایوان کی کارروائی کو فلور ٹسٹ کے بغیر 26 مارچ تک ملتوی کردیا تھا ۔ یہ اقدام ظاہر طورپر گورنر لال جی ٹنڈن کی ہدایات کی عدم تعمیل میں کیا گیا جنھوں نے کمل ناتھ حکومت کو ایک یوم کے وقت میں فلور ٹسٹ منعقد کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ اسپیکر نے جیسے ہی ایوان کی کارروائی ملتوی کی ، چند گھنٹوں میں بی جے پی کیمپ سپریم کورٹ سے رجوع ہوگیا تھا ۔ بھوپال میں ریاستی وزیر پی سی شرما نے دعویٰ کیا کہ بنگلورو میں موجود ایم ایل ایز دباؤ میں ہیں ۔ اُنھیں بھوپال آکر یہاں پریس کانفرنس منعقد کرنے میں کیا رکاوٹ درپیش ہے؟ وہ بی جے پی حکمرانی والی کرناٹک میں یرغمال ہیں ۔اُنھیں عملاً محروس رکھتے ہوئے ہپناٹائیزکیا گیا ہے۔ اُن کی واپسی کے بعد اُن کی مصنوعی غشی کی حالت دور ہوگی ۔ یہ باغی کانگریس ایم ایل ایز محض وہی کچھ پڑھ رہے ہیں جو اُنھیں فراہم کیا جارہا ہے۔ ریاستی وزیر شرما نے دہرایا کہ مدھیہ پردیش کی کانگریس حکومت اس بحران سے نکل جائے گی ۔ 10 مارچ سے مدھیہ پردیش سیاسی بھونچال میں مبتلا ہے جب سینئر کانگریس پارٹی لیڈر جوتیر آدتیہ سندھیا نے بی جے پی کی طرف انحراف کیا اور کئی ایم ایل ایز مستعفی ہوگئے ۔ اسمبلی اسپیکر پرجا پتی نے گزشتہ ہفتے ان میں سے چھ ایم ایل ایز کے استعفے قبول کرلئے اور 16 کو معرض التواء رکھا ہے ۔ بنگلورو میں صبح اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ایک خاتون ایم ایل اے نے کہا کہ سندھیا ہمارے لیڈر ہیں ، ہم کئی برسوں سے اُن کے ساتھ سیاست میں ہیں ۔ ہم میں سے اکثر اُن کی وجہہ سے ہی سیاست میں ہے۔ ہم ہنوز بی جے پی میں شمولیت کے تعلق سے سوچ رہے ہیں ۔ اگر ہم سنٹرل پولیس سے پروٹیکشن حاصل کرپاتے ہیں تو ہم مدھیہ پردیش واپس ہوکر اس تعلق سے غور کریں گے ۔ کانگریس قائدین کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے بنگلورو میں موجود ایم ایل ایز نے وضاحت کی کہ وہ اپنی مرضی سے اس شہر کو آئے ہیں ۔ باغی کانگریس ایم ایل ایز نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اُنھیں مزید 20 لیجسلیٹرس کی حمایت حاصل ہے ۔ اُدھر سپریم کورٹ میں بنچ نے چوہان کو اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو پٹیشن کی نقل ریاستی حکومت ، اسپیکر اور دیگر کو ای میل کے ذریعہ دے سکتے ہیں جو ترسیل کے روایتی طریقوں کے علاوہ ہے ۔