ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں 5 اگست کو شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے تشدد زدہ ملک میں اقلیتی برادریوں کے کم از کم 49 اساتذہ کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا ہے۔. اقلیتوں کی ایک تنظیم نے یہ معلومات دی ہیں۔.اخبار دی ڈیلی اسٹارنے رپورٹ کیا کہ ‘بنگلہ دیش ہندو بدھسٹ کرسچن کے طلبہ ونگ ‘بنگلہ دیش نے ہفتہکے روز ایک پریس کانفرنس میں یہ بات کہی۔تنظیم کے کوآرڈینیٹر سجیب سرکار نے کہا کہ 76 سالہ وزیر اعظم حسینہ کے عہدے سے سبکدوش ہونے اور ملک چھوڑنے کے بعد کئی دنوں تک جاری رہنے والے تشدد کے نتیجے میں ملک بھر میں اقلیتی اساتذہ پر حملہ کیا گیا اور ان میں سے کم از کم 49 کو استعفی دینے پر مجبور کیا گیا رپورٹ میں سجیب کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ان میں سے 19 کو بعد میں بحال کر دیا گیا۔حکومت نے کہا کہ اس عرصے کے دوران مذہبی اور نسلی اقلیتوں کو بھی ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا جیسے حملے، لوٹ مار، خواتین پر حملے، مندروں میں توڑ پھوڑ، گھروں اور کاروباروں کو نذر آتش کرنا ہے۔