کھانسی کی دوا کے متعلق مشورے والدین ، فارماسسٹ، ریاستوں اور مرکز ی زیر انتظام علاقوں کو روانہ کئے جائینگے
نئی دہلی، 6 اکتوبر (یو این آئی) مدھیہ پردیش اور راجستھان میں کھانسی کی دوا سے 12 بچوں کی حالیہ اموات کے پیش نظر مرکزی وزارت صحت کھانسی کی دوا کے استعمال کے تناظر میں، بالخصوص بچوں کے معاملے میں، نئی ہدایات جاری کرے گا۔ وزارت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ والدین، فارماسسٹ اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کے لیے یہ رہنمایانہ خطوط جلد ہی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو روانہ کی جانے کی امید ہے ۔ یہ فیصلہ کل مرکزی صحت سکریٹری پنیا سلیلا سریواستو کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کے بعد کیا گیا۔ اجلاس میں مرکزی اور ریاستی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹیز، محکمہ صحت اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) جیسے اہم اداروں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ ڈائریکٹر جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) نے حال ہی میں دو سال سے کم عمر بچوں میں کھانسی کے سیرپ کے استعمال کے خلاف خبردار کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اس گروپ میں زیادہ تر کھانسی خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہے اور اسے دوائیوں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں وزارت نے چھ ریاستوں کی 19 فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ یونٹس کے خطرے پر مبنی معائنہ (آربی آئی) شروع کیا ہے ۔ ان معائنہ کا مقصد ادویات کی تیاری کے عمل میں نظامی کمیوں کی نشاندہی کرنا اور موجودہ کوالٹی ایشورنس میکانزم کو مضبوط بنانا ہے ۔ اجلاس میں نظر ثانی شدہ شیڈول ایم – فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز کے لیے اپڈیٹڈ گڈ مینوفیکچرنگ پریکٹسز (جی ایم پی) معیار پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت کا اعادہ کیا گیا۔ حکام نے زور دیا کہ خلاف ورزی کرنے والے یونٹس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹسٹ رپورٹس میں تصدیق ہوئی ہے کہ تمل ناڈو میں تیار کردہ کھانسی کی دوا کولڈرف میں ڈائی تھیلین گلائکول (ڈی ای جی) کی مقدار جائز حد سے زیادہ ہے ۔ ریگولیٹری حکام نے معائنہ کے بعد کانچی پورم میں یونٹ کے مینوفیکچرنگ لائسنس کو منسوخ کرنے کی سفارش کی ہے ۔ حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں فوجداری کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے ۔ اب تک ٹسٹ کیے گئے سیرپ کے 10 نمونوں میں سے نو معیار پر پورا اترے ۔ پرائیویٹ پریکٹیشنرز اور مقامی فارمیسیوں سے جمع کیے گئے نمونوں کی بنیاد پر ڈی ای جی زہرکے لیے مثبت ٹسٹ کرنے والی واحد دوا کولڈرف تھی۔ بچوں میں کھانسی کی دوا کے استعمال سے اور اس سے منسلک خطرات کا ذکر کرتے ہوئے ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) ڈاکٹر سنیتا شرما نے بچوں کو ایسی دوائیں دیے جانے کے استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف کیمیکلز کا متضاد استعمال اور متعدد ناموں والی دوائیوں میں ایک جیسے کیمیائی اجزاء کی خوراک سنگین ضمنی اثرات کا باعث بن سکتی ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھانسی کی دوا کے عقلی استعمال سے متعلق مخصوص رہنما خطوط تیار کیے جا رہے ہیں اور آنے والے ہفتوں میں ڈاکٹروں، فارماسسٹوں اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے پیشہ ور افراد میں تقسیم کیے جائیں گے ۔
ڈاکٹر راجیو بہل، سکریٹری، محکمہ صحت تحقیق اور ڈائریکٹر جنرل، انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے بچوں کے لیے مرکب کھانسی کے شربت کے معمول کے استعمال کے خلاف مشورہ دیا اور ریاستوں پر زور دیا کہ وہ طبی ہنگامی حالات کے دوران بروقت مداخلت کے لیے ایجنسیوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط کریں۔
قابل ذکر ہے کہ اس سیرپ میں ڈائیتھیلین گلائکول (ڈی ای جی) نامی کیمیکل پایا گیا تھا، جو صنعتی سالوینٹس میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس کا استعمال اینٹی فریز، بریک فلوئڈ اور پینٹ بنانے میں کیا جاتا ہے ۔
اس کھانسی کی دوا کے نمونے چنئی کی سرکاری ڈرگ ٹیسٹنگ لیب میں بھیجے گئے تھے اوروہاں سے موصول ہونے والی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ اس میں 48.6 فیصد ڈی ای جی ہے ۔
یہ ایک میٹھا، بے بو اور بے رنگ مائع ہے جو دواؤں میں استعمال ہونے والے گلیسرین یا پروپیلین گلائکول جیسے محفوظ سالوینٹس کی بجائے اخراجات کو کم کرنے کے لیے شامل کیا جاتا ہے ۔ استعمال ہونے پر ڈی ای جی زہریلے مرکبات میں ٹوٹ جاتا ہے اور یہ گردوں، جگر اور اعصابی نظام کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے ، جس سے گردے فیل ہو جاتے ہیں اور بالآخر موت ہو جاتی ہے ۔