نئی دہلی/ پٹنہ: بہار میں دوسری سرکاری زبان کے طور پر تسلیم شدہ اردو زبان کو نظر انداز کیے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سماجی کارکن اور ماہر تعلیم زین شہاب عثمانی نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ریاست کی باوقار مہاتما گاندھی سنٹرل یونیورسٹی اور جنوبی بہار سنٹرل یونیورسٹی میں ابھی تک اردو کا شعبہ قائم نہیں کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بہار میں اردو بولنے اور پڑھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے اور یہ زبان ریاست کی ثقافتی اور لسانی وراثت کا ایک اٹوٹ حصہ ہے ۔ اس کے باوجود ریاست کی مرکزی یونیورسٹیوں میں اردو کے مطالعہ اور تحقیق کے لیے کوئی مناسب انتظامات نہیں کیے گئے ہیں جو کہ نہ صرف زبان کی ترقی میں رکاوٹ ہے بلکہ اردو میڈیم سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔زین شہاب عثمانی نے کہا کہ “یونیورسٹیوں کو قائم ہوئے ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ، لیکن اردو کے شعبہ جات کے قیام کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ اس اہم مسئلے پر سنجیدہ نہیں ہے ،” انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اردو کے نام پر کام کرنے والی تنظیمیں صرف ثقافتی پروگراموں، شعری محافل اور سیمینار تک محدود ہیں، جبکہ انہیں اردو کی تعلیم اور اس کی ادارہ جاتی ترقی کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔ لیکن ان کی طرف سے اس معاملے پر کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا گیا۔زین شہاب عثمانی نے کہا کہ انہوں نے اس موضوع پر مرکزی وزیر تعلیم مسٹر دھرمیندر پردھان کو خط لکھا ہے ، لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی ہے اور اس موضوع پر وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار جی اور محترم گورنر بہار کو خط لکھ کر درخواست کی گئی ہے ۔ ہمیں وزیر اعلیٰ اور محترم گورنر سے اس معاملے پر مثبت جواب کی توقع ہے ۔